اب احساس ہونے لگا ہے کہ مسلمان ہوکر بھارت میں نہیں رہ سکتا

بھارتی فلم انڈسٹری کے لیجنڈ اداکار نصیر الدین شاہ نے مودی سرکار کی ظالمانہ پالیسیوں کے خلاف آواز بلند کردی۔۔۔طلبہ کو تشدد کا نشانہ بنانے پر چپ نہ وہ سکے۔۔ ۔۔

کہتے ہیں کہ وزیر اعظم مودی کے طلبہ کے ساتھ رویے پر حیرت نہیں ہے، مودی خود کبھی طالب علم نہیں رہے اس لیے انہیں طلبہ سے ہم دردی نہیں۔۔ اب انہیں احساس ہونے لگا ہے کہ وہ ’مسلمان‘ ہوکر بھارت میں نہیں رہ سکتے۔

انہوں نے کہا کہ متنازع شہریت قانون پر خود بالی ووڈ کے اندر بھی بغاوت پنپ رہی ہے۔۔ دپیکا جیسے نوجوان اداکار اور ہدایت کار اس امتیازی قانون کے خلاف سراپا احتجاج ہیں، میں بڑے اور مستحکم اسٹارز کی خاموشی پرحیران ہوں کہ وہ کب تک اپنی چپ برقرار رکھ پائیں گے۔۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ حالات سے خوفزدہ تو نہیں ہوں۔۔ مگر غم وغصے میں ضرور ہوں۔

نصیر الدین شاہ نے کہا کہ ، مودی سرکار کی مذہبی سیاست نے مجھے اپنی مسلم شناخت کی طرف زیادہ متوجہ کر دیا ہے اور میں پریشانی میں مبتلا ہو گیا ہوں، ۔ اب احساس ہونے لگا ہے کہ مسلمان ہوکر ہندوستان میں نہیں رہ سکتا۔۔ نصیرالدین شاہ نے کہا کہ نریندر مودی خود ٹوئٹر پر نفرت پھیلانے والوں کی قیادت کر رہے ہیں

بھارت کے مختلف شہروں میں مسلمانوں کے خلاف امتیازی قوانین کے خلاف شدید احتجاج بدستور جاری ہے، مودی سرکار کی جانب سے اس احتجاج کو شدت عطا کرنے پر طلبہ پر بدترین تشدد کیا گیا۔

  • سیکولزازم محض ایک دھوکہ ہے. فسلطین ہو یا کشمیر، مینمار ہو یا بوسنیا، افغانستان، عراق، لیبیا، شام. غیر مسلم سیکولرازم کی آڑ میں ان کا مذہبی ایجنڈا آگے بڑھاتے رہے اور مسلمان اسلام چھوڑ کر سیکولرازم پر تکیہ کئے رہے


  • 24 گھنٹوں کے دوران 🔥

    View More

    From Our Blogs in last 24 hours 🔥

    View More

    This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept

    >