بھارت میں 33 مسلمانوں کو زندہ جلائے جانے پر سپریم کورٹ کا متنازعہ فیصلہ

بھارتی سپریم کورٹ کا معتصبانہ فیصلہ۔۔ تینتیس معصوم مسلمانوں کو زندہ جلانے والے سترہ ہندو انتہا پسندوں کو رہائی کا پروانہ جاری کردیا

عدالت نے ملزموں کو ہمسایہ گاؤں مدھیہ پردیش میں سکونت اختیار کرنے اور سماجی خدامات انجام دینے کا حکم دیا ہے۔ سپریم کورٹ نے مدھیہ پردیش انتظامیہ کو حکم دیا کہ ملزمان کو دو گروپوں میں تقسیم کیا جائے۔ ایک گروپ اندورن خانہ رہے گا اور دوسرے کو جبل پور کے مندر میں رکھا جائے۔
18 سال قبل 2002 میں بھارتی ریاست گجرات میں ہندومسلم فسادات کے نتیجے میں ایک ہزار سے زائد افراد ہلاک ہوگئے تھے جن میں اکثریت مسلمانوں کی تھی۔

موجودہ وزیراعظم نریندر مودی اُس وقت گجرات کے وزیراعلیٰ تھے اور مبینہ طور پر سب کچھ کے احکامات سے ہوا۔ ہنگامے پھوٹنے سے قبل گودھرا سے آنیوالی ٹرین کو لگائی دی گئی تھی جس میں 50 سے زائد افراد ہلاک ہوئے تھے۔ ہندووں نے ٹرین حادثے کا الزام مسلمانوں پر لگا کر قتل عام کیا جس کے نتئجے میں ہزاروں مسلمانوں کا جانی و مالی نقصان ہوا


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >