ایران میں کرونا وائرس پاکستان سے آیا،ایرانی حکام کا دعویٰ

ایران میں کرونا وائرس پاکستان سے غیرقانونی طور پر ایران میں داخل ہونے والے افراد کی ذریعہ پہنچا ہے, ایرانی حکام کا دعویٰ


تفصیلات کے مطابق ایران میں کورونا وائرس کے بڑھتے ہوئے کیسز کے باعث ایرانی حکام نے پاکستان  پر الزام عائد کیا ہے کہ ایران میں کورونا وائرس پھیلنے کی وجہ پاکستان ہے۔ کیونکہ پاکستان سے بہت سے افراد غیر قانونی طور پر ایران میں داخل ہوتے ہیں انہی افراد  سے کورونا وائرس ایران میں پھیل رہا ہے۔

اطلاعات کے مطابق ایران میں  کرونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد اور ہلاکتوں میں دن بہ دن اضافے کے پیش نظر پاکستان نے اپنے شہریوں کی حفاظت کو ترجیح دیتے ہوئے ایران سے متصل تفتان کی سرحد تیسرے روز بھی مکمل بند کر رکھی ہے۔ تاکہ ایران میں پھیلنے والی وبا کو پاکستان میں پھیلنے سے روکا جا سکے۔ کیونکہ چین کے بعد کورونا وائرس سے متاثرہ اور وائرس سے ہلاک ہونے والے مریضوں کی سب سے زیادہ تعداد ایران میں پائی جا رہی ہے۔

بعدازاں پاک ایران سرحد پر واقع پاکستان ہاؤس میں سو بیڈ پر مشتمل خیمہ رہائش گاہ برائے زائرین میں چار سو زائرین موجود ہیں جن میں کرونا وائرس کی تشخیص کے لیے سکریننگ کا عمل جاری ہے۔ جس کے بعد خیمہ میں موجود افراد کو 14 دن تک نگرانی میں رکھا جائے گا۔ تاکہ ان میں مرض کی تشخیص کی جا سکے۔


خبر رساں ادارے کے ذرائع کا بتانا تھا کہ سرحد کو مکمل بند کر دیا گیا ہے اور جو جہاں ہے وہاں سے اسے کہیں جانے کی اجازت نہیں ہے۔یہاں سے نہ کوئی سرحد کے اس پار جا رہا ہے نہ وہاں سے کسی کو آنے کی اجازت دی جا رہی ہے۔

صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے ڈپٹی ڈائریکٹر ڈاکٹر عمران کے مطابق زائرین میں سے کسی میں کورونا وائرس پایا گیا تو اسے الگ آئسولیشن وارڈ میں  منتقل کردیا جائے گا جہاں مکمل جانچ پڑتال کے بعد مذکورہ فرد کو 14 دن کے بعد محکمہ صحت کے ڈاکٹروں کی طرف سے کلیئرنس ملنے کے بعد جانے دیا جائے گا۔

دوسری جانب پاکستان میں گوادر کی انتظامیہ نے اعلامیہ جاری کیا ہے کہ جس نے کرونا وائرس کے حوالے سے سوشل میڈیا پر کوئی خبر یا ایسی کوئی چیز پھیلائی تو اس کو گرفتار کرکے اس کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔
یاد رہے کہ ایران میں تقریباً 60 افراد میں اب تک اس جان لیوا وائرس کی تصدیق ہو چکی ہے جبکہ ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد 12 ہوگئی ہے۔ جس کی وجہ سے ایرانیوں میں خوف و حراس پایا جا رہا ہے۔


  • 24 گھنٹوں کے دوران 🔥

    View More

    From Our Blogs in last 24 hours 🔥

    View More

    This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept

    >