مودی کی حکومت ٹرمپ کے دورہ بھارت کے دوران اہم تجارتی معاہدے کرنے میں ناکام

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ دورہ بھارت میں دونوں ممالک کے درمیان کوئی بڑا معاہدہ طے نہیں پاسکا۔


ٹرمپ کے دورہ بھارت کو نریندر مودی سمیت حکومتی حلقوں کی جانب سے ایک بڑی کامیابی سمجھی جارہا تھا اور کہا جارہا تھا کہ اس دورہ میں بھارت امریکہ اہم تجارتی معاہدے طے پائیں گے لیکن ایسا نہیں ہوسکا۔

بھارت کی جانب سے یہ امید کی جارہی تھی کہ دورہ بھارت کے دوران ڈونلڈ ٹرمپ سے تجارت میں محصولات میں کمی کے اہم معاہدے طے پاسکتے ہیں جس سے بھارتی معیشت کو کافی فائدہ پہنچ سکتا تھا، لیکن امریکہ اور بھارت کے درمیان دفاع، مواصلات اور توانائی کے شعبوں میں تعاون بڑھانے کے معاہدے طے پائے لیکن محصولات(ٹیرف) کے معاملے پر کوئی پیش رفت نہیں ہوسکی، بلکہ دونوں ملکوں کے رہنماؤں نےاس دورے کو محض ایک امید سمجھا کہ اس دورے سے محصولات میں اضافے کے باعث آنے والے فاصلوں کو کم کیا جاسکے گا۔
دونوں رہنماؤں کی مشترکہ پریس کانفرنس میں ڈونلڈ ٹرمپ نے لالی پاپ دیتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان اہم تجارتی معاہدہ زیر غور ہے اور ہم اس معاہدے کو منطقی انجام تک پہنچا ئیں گے، جس پر نریندر مودی کو بھی کہنا پڑا کہ ہم نے اتفاق کیا ہے کہ اہم تجارتی معاہدوں کیلئے مزاکرات کے دروازے کھلے رکھیں جائیں گے۔
واضح ہو کہ جون 2019 میں امریکہ نے بھارت کو حاصل ترجیحی سٹیٹس کو ختم کردیا تھا جس سے دونوں ملکوں کے درمیان تجارتی حجم جو 142.6 ارب ڈالر تھا کم ہوگیا، اور بھارتی مصنوعات پر ٹیرف بڑھا دیا گیا اور متعدد اشیاء جو پہلے ڈیوٹی فری تھیں ان پر ڈیوٹی عائد کردی۔ جواباََ بھارت نےبھی امریکہ کی اشیاء پر ٹیرف اور ڈیوٹی بڑھا دی جس پر دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات سرد ہوگئے تھے۔
بھارت اور امریکہ کے درمیان 3 ارب ڈالر کا دفاعی معاہدہ طے پایا ہے جس کے تحت بھارت امریکہ سے 3 ارب ڈالر کا دفاعی سازوسامان سمیت اپاچی ہیلی کاپٹر ز خریدے گا۔


24 گھنٹوں کے دوران 🔥

View More

From Our Blogs in last 24 hours 🔥

View More

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept

>