دہلی میں مسلمانوں کی نسل کشی۔۔ بھارتی میڈیا بھی بول اٹھا

بھارتی دارالحکومت نئی دہلی میں مسلم کش فسادات کا سلسلہ جاری ہے۔ دہلی جل رہاہے لیکن کوئی حالات کو قابو میں لانے والا نہیں مسلمان خوف کا شکار ہیں۔ پولیس کی موجودگی میں مسلمانوں پر مودی کے قصابوں کے حملے دیکھ کر پولیس خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے،  خود بھارتی میڈیا نے دہلی پولیس کی غندہ گردی اور بے حسی کا پول کھول دیا۔۔

جو دہلی پولیس کی کارکردگی پر  سوالیہ نشان ہے، کیونکہ پولیس کے سامنے مسلمان مخالف قانون کیخلاف مظاہرے کرنے والوں کی بی جے پی کے لیڈر کپل مشرا دھمکیاں دیتے رہے لیکن پولیس نے روکا تک نہیں۔۔ کپل مشرا نے مظاہرین کو تین دن میں احتجاج ختم کرنے کی دھمکی دی تھی۔۔ پولیس خود مسلمانوں کیخلاف کارروائیوں میں ملوث ہے،

سوشل میڈیا پر پولیس کی جانب سے انتہا پسندوں کو فسادات کیلئے اکسانے کی ویڈیو وائرل ہوگئی ہیں۔۔ جس میں دہلی پولیس کو پتھراؤ کرنے والوں کا ساتھ دیتا دیکھا جاسکتا ہے۔۔ تین روز سے دہلی میں یہی صورتحال ہے۔

بھارتی دارالحکومت نئی دہلی  میں ظلم کا بازار ہے، مساجد ،مزار، گھر املاک سب غیرمحفوظ ہے،  بلوائیوں نے بیس افراد کو قتل کردیا، سیکڑوں زخمی ہوگئے، بے جے پی کے درندوں نے اشوک نگر کی مسجد پر حملہ کردیا، توڑ پھوڑ کی۔۔  گوکل پوری میں بھی مسجد کی بے حرمتی کی گئی۔۔

پولیس کی سرپرستی میں گھر۔ دکانیں۔ گاڑیاں۔ پیٹرول پمپس جلا ڈالے۔۔ لوگوں کو روک روک کر ان کا مذہب پوچھا جانے لگا۔۔دہلی کی گلی گلی گھر گھر مسلمان خوف کا شکار ہیں۔۔جامعہ ملیہ اور جواہر لعل نہرو یونیورسٹی کے  طلبہ دہلی فسادات کیخلاف اروند کیجریوال کے گھرکے باہر جمع ہوئے تو پولیس نے  واٹرکینن کااستعمال کرکے مظاہرین کو ہٹایا۔۔ بھارتی پولیس زمین پر پڑے نہتے لوگوں کو ڈنڈے مار رہی ہے۔۔

مسلمانوں کی نسل کشی پر وزیراعلیٰ اروند کیجریوال نے فوج بلانے کا مطالبہ کردیا۔۔  جینوسائیڈ دہلی۔ برننگ دہلی۔ سوشل میڈیا پر دہلی فسادات ٹاپ ٹرینڈز بن گئے۔۔


24 گھنٹوں کے دوران 🔥

View More

From Our Blogs in last 24 hours 🔥

View More

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept

>