بھارت کی اربوں کی سرمایہ کاری ڈوب گئی، پاکستان کی دو سرحدیں محفوظ ہو گئیں

طالبان امریکہ امن معاہدہ: بھارت کا ایران اور افغانستان سے بستر گول

https://www.facebook.com/KamranKhanShow/videos/200338214506899/?__xts__%5B0%5D=68.ARDZlRcvAnrZNmUyHPCJPqdwovB2g-866vvEig0AzG_lfLKXos4n_Cc_WLPZlIA7sJCEmUfIMgw5h27dQ-4te3rrmgKd_fN-EJYDntj0J1cvuxuKePd-Uz4mf2Q2X6vbi5f1Nbgtts5b2OVZcv0n9JCTavsI86b7vO4IdyzfhMkxLuJ-sjYEDIgWrU_Ac0oSDo-owe-LSuCUxmiP6CautOF6oRIyf60SqviwLh22Kjs8k8dN0yBs6yoPyjqg5ZkgYAqg5Id-Eg1t5PvmzN-ZpTv0xVdMxCauUQQYkZIf8flO39Kq4knBSUTYvvyb8ByzGtUaGaG9JOs5UY4esWUi2C2FKzg4kyb8xPVyK_dwC-1eNoGs9ddd_2L7PA&__tn__=-R

پاکستان امریکہ اور طالبان کے درمیان امن معاہدہ طے پا گیا ہے، یہ معاہدہ افغانستان میں امن کے قیام میں سنگ میل ثابت ہوگا اور افغانستان میں امن قائم ہونے کا براہ راست فائدہ پاکستان کو پہنچے گا، پاکستان کی افغانستان سے جڑی سرحدیں محفوظ ہوجائیں گی ،

بھارتی خفیہ ایجنسی را اور افغانستان کی ایجنسی این ڈی ایس پاکستان میں بدامنی پھیلانے کا گٹھ جوڑ ٹوٹ جائے گا کیونکہ امن معاہدے کے بعد افغان حکومت کے بھارتی انٹیلی جنس کے ساتھ تعلقات کمزور ہوجائیں گے۔

بھارت اور ایران کے تعلقات میں بھی کمزوری آئی ہے، امریکی مداخلت کے بعد چاہ بہارپورٹ میں بھارت دلچسپی کم ہوگئی ہے۔ بھارت ایران میں بیٹھ کر براہ راست پاکستان کے خلاف منصوبے بناتا تھا اور ایرانی سرحد کے راستے پاکستان میں بدامنی پھیلانے کیلئے اپنے جاسوسوں کو بھیجتا تھا جیسا کہ بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو نے اعتراف کیا تھا کہ وہ ایران سے پاکستان میں داخل ہوا۔

بھارت ایران اور افغانستان میں بھرپور سرمایہ کاری کررہاتھا اور اس کی وجہ صرف ایک ہے کہ ان دونوں ممالک کی پاکستان کے ساتھ لمبی سرحدیں ملتی ہیں ، جو بھارت کیلئے دلچسپی کا سبب ہیں، ان تینوں ممالک کے درمیان چاہ بہار بندرگاہ کے سہ فریقی کوریڈور منصوبہ طے پایا اور بھارت نے چاہ بہار پورٹ میں 50 کروڑ ، اور ایران ریلوے کیلئے 30 ارب بھارت روپے خرچ کیے، اور بھارت ایران سے تیل خریدنے والا دوسرا بڑا ملک بن گیا۔

یہ وہ دور تھا جب اوبامہ انتظامیہ نے ایران بھارت کو ایران سے تیل خریدنے اور چاہ بہار میں سرمایہ کاری پر استثنی دے رکھا تھا، لیکن ڈونلڈ ٹرمپ نے آتے ہی بھارت کو ایران سے تجارت کرنے پر متنبہ کیا اور نومبر 2019 کے بعد ایران سے تیل کی درآمد ختم کرنے پر مجبور کردیا، جس کے بعد بھارت اور ایران کے درمیان تجارت میں 80 فیصد کمی آچکی ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ افغانستان کی تعمیر نو میں پیسا لگانے والے ایشیائی ممالک میں بھارت سر فہرست ہے، افغان پارلیمنٹ کی عمارت بھارت کی مالی مدد سے بنائی گئی اس عمارت کے ایک حصے کا نام بھارتی سابو وزیراعظم اٹل بہاری واجپائی کے نام پر ہے، یہ صرف ایک مثال ہے بھارت نے ایران اور افغانستان میں درجنوں منصوبے بھارت کی مرہون منت مکمل ہوئے ہیں.

اس معاملے پر خارجہ امور کے ماہر مشاہد حسین سید کا کہنا ہے کہ اس معاہدے سے پاکستان افغانستان اور پورے خطے کے لیے اہم پیش رفت ہے، یہ نائن الیون کے بعد اس خطے کیلئے سب سے اہم دن ہے جب یہ جنگ شروع کی اور پاکستان کی. جانب سے امریکہ کیلئے یہ سب سے بڑی مدد ہے، ہندوستان نے افغانستان کی سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال کیا اور بلوچستان، فاٹا اور قبائلی علاقوں میں بدامنی پھیلائی.

 

یہ معاہدہ بھارت کیلئے سب سے بڑا دھچکہ ہے دوسرا بڑا دھچکہ بھارت کیلئے ٹرمپ کا بھارت میں عمران خان کی تعریف کرنا تھا.
مشاہد حسین سید نے کہا کہ خطے میں بھارت کی پوزیشن بہت کمزور ہوگئی ہے جبکہ پاکستان امن کے قیام کیلئے مثبت کردار ادا کررہا ہے

  • اگر تو بھارت کا مقصد رزق کے مواقے حاصل کرنا تھا تو بھارت کو کوئی نقصان نہیں ہوا ، لیکن اگر رزق کی آڑ میں شر پھیلانا تھا تو واقعی دبڑ دہوس ہو گیا


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >