پاکستان کی حکومت اور فوج کی تعریف کیوں کی،بھارتی سرکار نے سکھ یاتریوں پر مقدمہ بنا دیا

کرتار پور راہداری سے واپسی پر بھارتی سکھوں کو پاک فوج ور پاکستانی حکومت کی تعریف مہنگی پڑ گئی۔


بی بی سی کے مطابق جذبہ خیر سگالی کے تحت
پاکستانی حکومت کی طرف سے بابا گرو نانک کے 550 ویں جنم دن کے موقع پر بھارتی سکھوں کو ہر ممکن سہولیات دینے کے ساتھ ساتھ کرتارپور راہداری کی تعمیر کی گئی۔ جس کے ذریعے بھارتی سکھ بابا گرونانک کے جنم دن کی خوشیاں منانے کے لیے پاکستان آئے تھے۔ بھارتی سکھوں کے ساتھ ساتھ پوری دنیا سے بابا گورونانک کے پیروکار تشریف لائے تھے جن کو حکومت پاکستان کی جانب سے ہر ممکن سہولیات مہیاء کی گئی۔

بی بی سی کو انٹرویو میں بھارتی سکھوں کا اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہنا تھا کہ بابا گرونانک کے جنم استھان سے مٹی لے کر آئے کہ اپنے کھیتوں میں ڈالیں گے پر واپسی پر بارڈر پر بھارتی فوج نے یہ کہہ کر کہ "پاکستان کی مٹی بھارت دیش میں نہیں جا سکتی” لانے کی اجازت نہیں دی۔

بی بی سی کے ساتھ اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے ایک سکھ یاتری کا کہنا تھا کہ گورودوارہ صاحب کی یاترا کے بعد واپسی  پر بارڈر پر ہم سے عجیب عجیب سے سوال کیے گئے جیسا کہ پاکستان کی فوج کیسی لگی؟ جس کے جواب میں سکھ یاتری نے پاک فوج کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی فوج اور عوام نے ہمیں بہت پیار اور احترام دیا اور ہمیشہ بھائی یا سردار صاحب کہہ کر مخاطب کیا۔

اپنی گفتگو میں سکھ یاتری کا مزید کہنا تھا کہ کرتارپور واپسی سے  15 دن بعد مقامی پولیس اسٹیشن سے فون کال آئی کہ امرتسر سےآپکے خلاف رپورٹ آئی ہے۔ پیش ہوکر اپنا جواب ریکارڈ کروائیں اور اپنے ساتھ اپنے گاوٙں کا کوئی معتبر شخص لے کر آئیں۔ پولیس اسٹیشن جانے پر معلوم ہوا کہ پاک فوج کی تعریف کرنے پر ہمارے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے اور پولیس والوں کی طرف سے ہمیں تنبیہ کی گئی کہ پاکستان کی فوج کی تعریف کرنے پر کیا آپ لوگوں کا کرتارپور صاحب جانا بند کر دیا جائے۔

میرا کرمینل ریکارڈ نہ ہونے اور تمام قانونی کاغذات پورے ہونے کی وجہ سے مجھ سے عجیب اور حیرت گم کر دینے والے سوال کیے گئے کہ تم کیا کرتے ہو ؟ جسے جواب میں کرتارپور کا دیدار کر کے لوٹنے والے یاتری کا کہنا تھا کہ میں نے اعلٰی تعلیم حاصل کر رکھی ہے اور اب سٹوڈنٹ ویزے پر کینیڈا جانے کی خواہش ہے۔ ان خیالات کا اظہار بابا گرونانک کے پیروکار نے بی بی سی کو دیئے خصوصی گفتگو میں کیا۔ جبکہ انکا اپنےبیان میں مزید کہنا تھا زندگی میں پہلی بار مجھے اور میری فیملی کو پولیس اسٹیشن کا چکر لگانا پڑا۔ جبکہ میں اپنی فیملی کو کچھ دنوں سے پاسپورٹ بنوا کر پاکستان یاترا کرنے کی ترغیب دے رہا تھا۔

دوسری جانب میڈیا کے ساتھ خصوصی گفتگو میں پنجاب سے بھارتی اسمبلی کے رکن کا حکومت کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے کہنا تھا کہ یہ بہت سنگین مسئلہ ہے اور میں حکومت سے اسمبلی میں بھی مطالبہ کر چکا ہو کہ براستہ واہگہ بارڈر جانے اور آنے پر ہم سے کسی قسم کی کوئی پوچھ گچھ نہ کی جائے۔ جبکہ حکومت کا اس پوچھ گچھ میں صاف کردار نظر آ گیا ہے۔ جبکہ رکن اسمبلی کا میڈیا سے گفتگو مزید کہنا تھا کہ اب ہمیں بتایا جائے کہ بارڈر سے اس پار جانے والے دہشت گرد ہے یا کوئی مافیا ہے جو ان سے اس طرح کا سلوک روا رکھا جا رہا ہے۔

جبکہ دوسری جانب بھارتی پنجاب سے پولیس افسر سے صحافی نے سوال کیا کہ لوگوں سے واپسی پر پولیس انکوئری کے باعث اب کتنے لوگ کرتارپور جاسکیں گے؟ کے جواب میں پولیس افسر کا کہنا تھا کہ برائے مہربانی اس طرح کی جھوٹی افواہوں پر دھیان نہ دیا جائے جبکہ کسی کو بھی کرتارپور جانے سے روکا نہیں جا رہا۔


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >