کورونا وائرس کی شکار بیوی کی تیمارداری، شوہر کی محبت نے دل جیت لیے

چائنا میں ایک شخص نے کورونا کا شکار بیوی کا اس طرح خیال رکھا کہ لوگ تعریف کیے بنا نہیں رہ سکے، ان کی ویڈیو لاکھوں لوگوں نے شیئر کی ۔

تفصیلات کے مطابق چائنا کے ہائی تنگ کی بیوی جو ایک ہسپتال  کی ایمرجنسی میں نرس کے فرائض سرانجام دیتی ہے اسے چار روز قبل کورونا وائرس نے اپنا شکار بنا لیا اور اب وہ اپنے گھر میں آسولیشن میں رہ رہی ہے لیکن اس کے شوہر نے اس کا خیال رکھنے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی۔
ہائی تنگ نے ایک ویڈیو میں تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ 4 روز ہوگئے میری بیوی کو کورونا کا شکار ہوئے اسے اب بھی بخار ہے اور اسے گزشتہ روز کی نسبت کھانسی بھی ذیادہ ہے اس کے علاوہ وہ بالکل ٹھیک ہیں۔
انہوں نے کہا کہ میری بیوی اس وقت اس وائرس کا شکار ہے لیکن وہ ابھی سیریس کنڈیشن میں نہیں ہے اور اسی لیے ہم گھر پر ہی اس وائرس کا علاج کررہے ہیں، انہوں نے بتایا کہ میں پورا دن اس کیلئے وقف کرتا ہوں، ایک الگ تھلگ رہنے والے مریض کا خیال رکھنا بہت اہم ہوتا ہے ، آپ کو خود کو بھی محفوظ رکھنا ہوتا ہے اور اپنے مریض کی تمام ضروریات بھی پوری کرنا ہوتی ہیں۔
ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ وہ پوری طرح خود کو ڈھانپ کر دستانے اور ماسک پہن کر اپنی بیوی کیلئے کھانا بناتے ہیں اور پھر اس کے کمرے کے باہر رکھتے ہیں پھر ان کی بیوی وہ کھانا اٹھاتی ہے اور کمرے میں لے جاتی ہے،

وہ اس کی خیریت بھی دریافت کرتے ہیں اور اس کے کمرے میں صفائی کیلئے بھی جاتے ہیں، کمرے میں جاتے وقت وہ سر سے پیر تک خود کو ڈھانپے ہوئے ہوتے ہیں حتی کہ ان کی آنکھوں پر بھی بڑا چشمہ ہوتا ہے جیسا پانی کے اندر تیرتے ہوئے استعمال کیا جاتا ہے، وہ کمرے میں داخل ہوتے وقت اپنی بیوی کو آواز دے کر آگاہ بھی کرتے ہیں اور وہ بھی ماسک پہن کر رکھتی ہے جتنی دیر اس کا شوہر اس کے کمرے میں ہوتا ہے، اس دوران وہ ہلکی پھلکی گفتگو بھی کرتے رہتے ہیں تاکہ دونوں کو تنہائی کا احساس کم سے کم ہو۔
انہوں نے کہا جب سے میں نے اپنی اور اپنی بیوی کی ویڈیو پوسٹ کی ہے لوگ مجھ سے ہمدردی کا اظہار کررہے ہیں اور لوگ میرے لیے کافی فکر مند ہیں کچھ لوگوں نے مجھے میڈیسن بھی تجویز کی ہیں جو اب میں نے لینا شروع کردیں ہیں۔
وہ گھر کے روز مرہ کے کام کرتے ہیں گروسری کرتے ہیں بیوی کیلئے اور اپنے لیے دوائیں خریدتے ہیں اور گھر واپس آکر گھر کے دیگر کام نمٹاتے ہیں۔
انہوں نےکہا میں اس معاملے میں بہت احتیاط کررہا ہوں کہ یہ وائرس مجھ تک نا پہنچے اس کیلئے میں تمام احتیاطی تدابیر پر عمل کرتا ہوں، وہ گھر میں رہتے اور باہر سے آتے ہوئے اپنے ہاتھوں کو بار بار سینیٹائزر سے صاف کرتے ہیں اور خود پر سینیٹائز ر کا سپرے بھی کرتے رہتے ہیں اور فیس ماسک ہر وقت ان کے منہ پر رہتا ہے۔
وہ اپنی بیوی کا خیال اس ذمہ داری سے رکھتے ہوئے نظر آتے ہیں کہ اس کا بخار چیک کرنا ، اسے دوائی کھلانا حتی کے اسے پانی پلانا بھی اپنی ذمہ داریوں میں لے رکھا ہے،اتنی محبت کے سبب ان کی بیوی روتے ہوئے دکھائی دی تو انہوں نے اس کی دلجوئی کی اور دلاسہ دیا کہ سب ٹھیک ہوجائے گا میں تمہارے ساتھ ہوں میں کہیں نہیں جاؤں گا،جس پر ان کی بیوی نے کہا میں نہیں چاہتی کہ آپ یہاں رہیں۔
وہ اپنی بیوی کیلئے وہ کھانے بناتے ہیں جو اس بیماری میں اس کیلئے فائدہ مند ہوں، وہ اس کیلئے یہ سب اتنی تندہی سے کرتے ہیں کہ دیکھنے والے ان کی محبت پر رشک کیے بنا نہیں رہ سکتے۔
انہوں نے کہا اب میں اور میری بیوی یہ سوچ رہے کہ اسے ہسپتال میں ایڈمٹ ہونا چاہیے کیونکہ انتظامیہ ہر مریض کو ہسپتال میں داخلے کی پابندی چاہتی ہے، لیکن ہسپتالوں میں جگہ نا ہونے کے برابر ہے ، ہوسکتا ہے کل ایک بیڈ خالی ہوجائے تو میں اپنی بیوی کو ہسپتال داخل کرواسکوں۔
ہسپتال داخلے کے دو روز بعد ان کی بیوی کی ویڈیو منظر عام پر آئی جس میں وہ بالکل صحت مند دکھائی دے رہی ہیں، انہوں نے بتایا کہ مجھے آکسیجن کے ذریعے سانس لینا پڑ رہی ہے لیکن اب میں بہتر ہوں میرے تمام مونیٹرنگ کے آلات کو ہٹا دیا گیا ہے، انہوں نے اپنے شوہر اور ان کے کیلئے نیک تمناؤں کا اظہار اور دعائیں کرنے والے لوگوں کو شکریہ ادا کیا۔


Featured Content⭐


24 گھنٹوں کے دوران 🔥


From Our Blogs in last 24 hours 🔥


>