امریکی صدر ٹرمپ کاافغان طالبان لیڈر ملا عبدالغنی سے ٹیلیفونک رابطہ

جنگ سے مصالحت تک، امریکا طالبان رابطے

امریکی صدر کی طالبان رہنما ملا عبدالغنی کا ٹیلیفونک رابطہ

Mullah Brothers

تفصیلات کے مطابق دوحہ معاہدے کے بعد پہلی دفعہ امریکی صدر اور طالبان قیادت میں رابطہ ہوا ہے۔

ترجمان افغان طالبان کے مطابق امریکی صدر نے 35 منٹ تک بات چیت کی جس میں طالبان کے دیگر رہنما اور زلمے خلیل زاد بھی موجود تھے۔

عبدالغنی برادر نے امریکی صدر سے کہا کہ معاہدے کی خلاف ورزی کرنے والے امریکا کو افغانستان میں پھنسانا چاہتے ہیں۔

غنی برادر نے مزید کہا کہ آزادی اور پسند کی حکومت افغان عوام کا حق ہے، جتنا جلدی ہوسکے معاہدے پر عمل درآمد ہونا چاہیے۔

افغانستان میں جاری 18 سالہ جنگ کے خاتمے کے لئے امریکا اور افغان طالبان نے 29 فروری 2020 کو امن معاہدے پر دستخط کیے۔ طالبان کی جانب سے ملا عبدالغنی برادر اور امریکا کی جانب سے نمائندہ خصوصی زلمے خلیل زاد نے امن معاہدے پر دستخط کیے۔

تقریب کا انعقاد قطر کے دارالحکومت دوحہ میں واقع ایک ہوٹل میں کیا گیا۔ معاہدے کی اس اہم تقریب میں پاکستان سمیت 50 ممالک کے وزرائے خارجہ اور طالبان کے وفد نے شرکت کی۔

معاہدے پر پہنچنے سے قبل امریکا اور طالبان کے درمیان قطر کے دارالحکومت دوحہ میں 18 ماہ تک مذاکرات جاری رہے۔


Featured Content⭐


24 گھنٹوں کے دوران 🔥


From Our Blogs in last 24 hours 🔥


>