کرونا وائرس کا خوف، اٹلی نے ڈیڑھ کروڑ لوگوں پر مشتمل دو شہروں کو آئسولیٹ کر دیا

اٹلی کی حکومت نے کرونا وائرس کو مزید پھیلنے سے روکنے اور اس کے خلاف موثر اقدامات کرتے ہوئے اپنے دو شہروں کو قرنطینہ ( آئسولیسن) میں بدل کر لوگوں کی آمدورفت کو نہ ہونے کے برابر کر دیا جس کے باعث آدھے اٹلی کے لوگوں کا دوسرے لوگوں اور دنیا سے رابطہ کٹ گیا۔


غیر ملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق اٹلی نے اپنے مشہور دو شہروں وینس اور تجارتی لحاظ سے مشہور میلان سمیت شمالی علاقے کو مکمل بند کرنے کا اعلان کر دیا۔ اٹلی کے وزیراعظم جوزپے کونٹی نے بتایا ہے کہ انہوں نے تقریباً ایک ماہ تک دونوں شہروں کو لاک ڈاؤن کرنے کے حکم نامے پر دستخط کر دیے ہیں۔ جس پر فوری عملدرآمد کیا جائے گا۔ چنانچہ حکام کی جانب سے فیصلے پر عملدرآمد کس حد تک کروایا جائے گا اور کیسے لوگوں کو گھروں سے نکلنے سے روکا جائے یہ واضح نہیں کیا جا سکا۔

اٹلی کے وزیراعظم جوزپے کونٹی نے اپنے حکم نامے کہا ہے کہ لاک ڈاؤن سے اٹلی کی چھ کروڑ آبادی کا ایک چوتھائی حصہ متاثر ہوا ہے جبکہ صرف وہ لوگ جن کے پاس’سنجیدہ‘وجہ ہو گی جسے ملتوی نہیں کیا جا سکتا جیسا کہ ضروری کام یا خاندانی معاملات پر انہیں قرنطینہ (آئیسولیشن) والے علاقوں میں جانے یا وہاں سے نکلنے کی اجازت دی جائے گی۔ دریں اثناء ان لوگوں کو بھی گھر جانے کی اجازت دی جائے گی جو گھروں سے دور دوسرے شہروں میں رہتے ہونگے۔

دوسری جانب میلان کی سڑکیں عام آمدورفت کے لیے بند ہونے کی وجہ سے سنسان ہو گئیں ہیں جبکہ میلان اور وینس کے ہوائی اڈوں پر پروازیں معمول کے مطابق جاری ہیں جبکہ ریلوے سٹیشنز پر بھی ٹرینوں کی آمد کا سلسلہ جاری ہے۔

خیال رہے کہ چین کے باہر سب سے زیادہ ہلاکتیں اٹلی میں 230 ہو چکی ییں۔جبکہ ملک کے شمالی حصے کے تمام جم خانے اور سوئمنگ پولز بھی بند کر دئیے ہیں۔جبکہ عالمی ادارہ صحت نے کرونا وائرس کے پھیلاوں کو روکنے کے لیے کیے گئے اٹلی کے اقدامات کی تعریف کرتے ہوئے سراہا  ہے۔


Featured Content⭐


24 گھنٹوں کے دوران 🔥


From Our Blogs in last 24 hours 🔥


>