امریکی سینیٹ  نے کرونا کی روک تھام کیلئے 2کھرب ڈالر کا امدادی پیکیج  منظور کرلیا

امریکا میں تیزی سے پھیلتے کرونا وائرس کے کیسز کی روک تھام کیلئے اقدامات کا سلسلہ جاری ہے۔۔ کرونا پر قابو پانے کے لئے امریکی سینیٹ نے دو کھرب ڈالر کے پیکج کی منظوری دے دی ہے۔ جسے امریکی تاریخ کا سب سے بڑا امدادی بل کہا جارہاہے، جس سے امریکی معیشت کو پہنچنے والے دھچکے کو توازن کیا جائے گا۔۔ بل کو ایوان نمائندگان میں منظوری کیلئے بھیج دیا گیا ہے جس پر آج ووٹنگ ہوگی۔

بل کی منظوری کے بعد سالانہ پچھتر ہزار ڈالر کمانے والے شہری کو فی کس بارہ ڈالر کی امداد دی جائے گی۔ اس سے زیادہ کمانے والے کو اس سے کم امداد ملے گی، سالانہ ننانوے ہزار ڈالر کمانے والے بھی مستفید ہوسکیں گے۔۔ جبکہ کاروباری اداروں، شہروں اور ریاستوں کی مدد کے لیے پانچ سو ارب ڈالر کے قرضے ملیں گے۔۔

چھوٹے کاروباری اداروں کے ملازمین کی ملازمت جاری رکھنے کیلئے تین سو سڑسٹھ ارب ڈالر دیئے جائیں گے۔ قومی سلامتی کے اداروں کی امداد کیلئے سترہ ارب ڈالر، مسافر فضائی کمپنیوں کو پچیس ارب ڈالر امداد اور پچیس ارب ڈالر قرضوں کی شکل میں دیئے جائیں گے، مال بردار فضائی کمپنیاں آٹھ ارب ڈالر لے سکیں گی۔۔اسپتالوں کیلئے سو ارب ڈالر مقرر کئے گئے ہیں۔۔

امریکا میں ایک روز میں دو سو تینتیس افراد ہلاک ہوئے ہیں جس کے بعد بدترین دن قرار دیا گیا ہے۔ پچاس ریاستوں میں ہلاکتیں ایک ہزار بتیس ہوگئیں۔۔ ایک دن میں کرونا کے دس ہزار کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔۔ اڑسٹھ ہزار چار سو باہتر افراد متاثر ہیں۔۔

فلوریڈا میں کھڑی کروز شپ میں سستر افراد میں وائرس کی علامات ظاہر ہوئی ہیں، کیلیفورنیا میں روزانہ کی بنیاد پر متاثرین کی تعداد میں دو گناہ اضافہ ہورہاہے۔۔ فلوریڈا اور ٹیکساس میں نیویارک کی طرح بری صورتحال ہے، نیویارک میں اس وقت سب سے زیادہ ہلاکتیں ریکارڈ ہوئی ہیں۔۔

منی سوٹا اور ایڈاہو کے شہریوں کو بھی گھروں میں رہنے کے احکامات جاری کر دیے ہیں۔ عالمی ادارہ صحت پہلے ہی خبردار کرچکا ہے کہ اگر امریکا نے اس وائرس پر قابو نہ پایا تو یورپ کے بعد امریکا وائرس کا بڑا مرکز بن سکتا ہے۔۔

OR comment as anonymous below

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے


24 گھنٹوں کے دوران 🔥

View More

From Our Blogs in last 24 hours 🔥

View More