بیلا روس نے کرونا وائرس کے خلاف اپنی انوکھی پالیسی

جب تک کھیتوں میں ٹریکٹر چلتے رہیں گے، کورونا کا مقابلہ کیا جاسکے گا، ملک میں ہر چیز معمول کے مطابق ہے، صدر کے مطابق ایسے واقعات ہوتے رہتے ہیں ، بیلا روس کے صدر الیگزینڈر

تفصیلات کے مطابق ایک طرف جہاں پوری دنیا میں کرونا وائرس کی وجہ سے ہلچل مچی ہوئی ہے وہیں یورپ کے ملک بیلا روس میں زندگی معمول کے مطابق رواں دواں ہے، اور سرکاری سطح پر عوام کو ھدایت کی گئی ہے کہ ڈرنا نہیں پر سکون رہنا ہے۔

بیلا روس یورپ کا وہ واحد ملک ہے جہاں کورونا کا کوئی خوف نہیں، زندگی رواں دواں ہے، تعلیمی ادارے کھلے ہیں، فٹبال میچ ہورہے ہیں اور دوسری تمام سرگرمیاں جاری ہیں۔

بیلاروس کے صدر الیگزینڈر نے اعلان کیا تھاکہ جب تک کھیتوں میں ٹریکٹر چلتے رہیں گے، کورونا کا مقابلہ کیا جاسکے گا، لہذا وائرس سے متعلق کم سنیں اور کھیتوں میں بیج بونے پر دھیان دیں۔

دنیا کی بہترویں بڑی معشیت کے صدر کا اصرار ہے کہ افواہیں، خوف اور دہشت وائرس سے زیادہ خطرناک ہے۔ اسی لیے انہوں نے ملک کی خفیہ ایجنسی کو ہدایت کر رکھی ہے کہ کورونا سے متعلق افواہیں پھیلانے والوں کی کڑی نگرانی کی جائے۔

صدر کے فیصلے کی حمایت نہ صرف حکومت نے کی بلکہ اپوزیشن نے بھی اتفاق کیا بلکہ ایک کارکن نے تو یہ بھی کہا کہ پاگل پن کی صورت حال میں خاموش نہیں رہ سکتے۔ کارکن کے نزدیک دنیا بھر میں اس حوالے سے اقدامات مثلآ کرفیو اور لاک ڈاؤن پاگل پن ہیں۔

بیلاروس میں لاک ڈاؤن تو دور کی بات سفری پابندی بھی نہیں لگائی گئی۔ اب اسے خود کشی کہا جائے یا بہادری یہ تو وقت بتائے گا۔ اس وقت وہاں سو کے قریب کورونا کے مریض ہیں، دو کی جان جا چکی ہے، لیکن زندگی معمول پر ہے اور ہر قسم کی اشیا سے بازار بھرے ہوئے ہیں۔ اگر بات کی جائے ماسک اور سینیٹائرز کی تو وہاں اس کی بھی قلت نہیں ہے اور کسی نے کچھ بھی ذخیر نہیں کیا ہے۔

وبا کے عالم میں بیلاروس کا یہ بے خوف انداز اور رویہ اس خوف کو مات دینے کی کوشش کررہا ہے جو وبا سے بھی زیادہ خطرناک اور مہلک ہے۔


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >