متحدہ عرب امارات میں اسلامو فوبک پوسٹس کرنےوالا ہندوستانی نوکری سے فارغ

متحدہ عرب امارات میں اسلامو فوبک پوسٹس کرنےوالا ہندوستانی نوکری سے فارغ

تفصیلات کے مطابق متحدہ عرب امارات میں مقیم ہندوستانیوں کی جانب سے سوشل میڈیا پر اسلامو فوبک پوسٹیں کرنے کا رجحان شدت اختیار کر گیا تھا اور متحدہ عرب امارات میں مقیم ہندوستانیوں کی جانب سے کرونا وائرس پھیلانے کا صرف اور صرف مسلمانوں کو ذمہ دار ٹھہرایا جا رہا تھا۔متحدہ عرب امارات کے متعلقہ ادارے نے اسلامو فوبک پوسٹس کرنے والوں کے خلاف کریک ڈاؤن کا آغاز کرتے ہوئے ہندوستانیوں کو ملازمتوں سے فارغ کرنا شروع کردیا ہے۔

اسی تناظر میں راس الخیمہ میں ایک کان کنی فرم جس میں ایک بڑی تعداد میں ہندوستانی تارکین وطن ملازمت کرتے ہیں اور متحدہ عرب امارات میں ہی مقیم ہیں،ان ہندوستانی تارکین وطن کا ایک مخصوص طبقہ سوشل میڈیا پر اسلامو فوبک پوسٹس کرنے پر مصروف تھا۔جن کو متحدہ عرب امارات کی جانب سے کارروائی کا سامنا کرنے کے بعد اپنی ملازمت سے محروم ہونا پڑا۔

متحدہ عرب امارات میں اسلامو فوبک پوسٹس کرنےوالا ہندوستانی نوکری سے فارغ
عرب خبر رساں ادارے گلف نیوز کے مطابق ، فرم کی جانب سے براج کشور گپتا کو بغیر نوٹس کے برطرف کردیا گیا، کیونکہ انہوں نے اپنے فیس بک اکاونٹ پر پوسٹوں میں ہندوستانی مسلمانوں کو کورونا وائرس پھیلانے کا ذمہ دار اور دہلی کے فسادات کو خدائی انصاف قرار دیا تھا۔ براجکشور گپتا کے علاوہ متحدہ عرب امارات میں ملازمت کرنے والے متعدد ہندوستانیوں کو سوشل میڈیا پر مسلم مخالف پوسٹیں کرنے پر ملازمت سے ہاتھ دھو بیٹھنے کے علاوہ قانونی کارروائی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

کمپنی کے کاروباری ترقی اور ریسرچ کے منیجر ژان فرانسوا میلان نے اتوار کے روز گلف نیوز کو ایک ای میل میں بتایا کہ اس جونیئر ملازم سے وابستہ الگ الگ واقعے کی تحقیقات کی گئیں اور فوری طور پر اس شخص کو ملازمت سے برطرفی کا نوٹیفکیشن دیئے بغیر ملازمت سے برطرف کردیا گیا۔

میلان نے کہا کہ ہماری کمپنی کی پالیسی رواداری اور مساوات کو فروغ دینے اور نسل پرستی اور امتیازی سلوک کی سختی سے مذمت کرنے میں متحدہ عرب امارات کی حکومت کی ہدایت کی تائید کرتی ہے اور ہم نے اپنی کمپنی کے تمام ملازمین کے نام ایک مراسلہ بھی جاری کیا ہے جس میں تمام ملازمین کو خبردار کیا گیا ہے کہ اگر کسی نے بھی مذہبی یا نسل پرستی کے پس منظر میں تنقید کا نشانہ بنایا تو اسے نوٹیفیکیشن دیئے بغیر فوری طور پر نوکری سے برخاست کر دیا جائے گا۔

متحدہ عرب امارات میں اسلامو فوبک پوسٹس کرنےوالا ہندوستانی نوکری سے فارغ

خیال رہے کہ فروری میں دلی میں سب کو ہلا کر رکھ دینے والے دلی فسادات کے نتیجے میں تشدد کی وجہ سے پچاس سے زیادہ افراد جاں بحق ہوگئے تھے جن میں اکثریت مسلمانوں کی تھی۔ اس کے علاوہ انتہا پسند ہندوؤں کی جانب سے مسلمانوں کے گھروں میں گھس کر مرد و خواتین کے علاوہ بچوں کو بھی زدوکوب کیا گیا تھا، فسادات کے دوران انتہا پسند ہندوؤں کے ایک ٹولے کی جانب سے مسلمانوں کی متعدد مساجد کو شہید کیا گیا تھا۔


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >