بھارت میں مسلمانوں پر ہونے والے مظالم کی کہانی عرب صحافی کی زبانی

بھارت میں مسلمانوں پر ہونے والے مظالم کی کہانی عربی صحافی کی زبانی

بھارت میں مسلمانوں سے نفرت کے رویے اور آر ایس ایس کے مسلم مخالف نظریئے سے شاید ہی کوئی ناواقف ہو۔بھارت میں مسلمانوں پر زمین تنگ کر دی گئی ہے اور مسلمانوں کو ہر غلط کام کیلئے ذمہ دار ٹھہرا کر سزاکا دیا جانا معمول بن چکا ہے۔اسی طرح کی داستان بھارت میں آنکھوں سے دیکھ کر ایک سعودی صحافی پروگرام "دیوان الملا” میں میزبان کو بتاتا ہے جسے سن کر رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں اور میزبان بھارت میں ہونے والے مظالم پر حیران رہ جاتا ہے۔

ایک سوال کے جواب میں رپورٹر احمد الوحید بتاتا ہے کہ بھارت میں شروع ہونے والے مظالم آج کے نہیں بلکہ گزشتہ کئی دہائیوں میں بھارت میں موجود مسلمان اذیت اور مظالم کے شکار ہیں۔ اب بھارت میں مسلمانوں کو ہی کورونا وائرس کے پھیلنے کا موجب سمجھا جا رہا ہے۔بھارت میں مسلمانوں کو کورونا کے نام پر سزائیں دی جارہی ہیں اور ان کے ساتھ انسانیت سوز رویہ اپنایا جا رہا ہے۔

ایک سوال کے جواب میں رپورٹر نے بتایا کہ بھارت میں مسلم مخالف نظریہ شروع سے ہی موجود تھا مگر اس خوفناک رویئے کو بابری مسجد کے واقعے کے بعد آر ایس ایس کے غنڈوں نے مزید ہوا دی اور مسلمانوں کیلئے ایک قتل و غارت گری کا سلسلہ شروع ہوگیا۔بھارت میں کسی بھی انتخاب میں مسلم مخالف رویئے کو استعمال کر کے انتخابات میں جیتا جاتا ہے۔انہوں نے مزید بتایا کہ بھارت میں مسلمانوں کی حالت زار پر کویت کی جانب سے بھی اوآئی سی کو خط لکھا گیا ہے جس میں بھارت میں مسلمانوں پر ڈھائے جانے والے مظالم پر روشنی ڈالی گئی ہے اور کشمیر کی صورتحال پر بھی بات کی گئی ہے۔

کشمیر میں مسلمانوں پر زندگی تنگ کر دی گئی ہے اور ان کیلئے انٹرنیٹ کی سہولت کو بند کر دیا گیا ہے اور اب جب کورونا کی صورتحال میں اگر کشمیر میں انٹرنیٹ سروس بحال کی جاتی ہے تو کشمیر سے صرف اور صرف آر ایس ایس مخالف ردعمل سامنے آتا ہے۔ بھارت میں مسلمانوں سے ان کی قومیت تک چھینی جا رہی ہے پہلے سے موجود بھارتی مسلمانوں سے ان کے دادا کی جائے پیدائش کا ثبوت مانگا جاتا ہے اور ثبوت نہ ہونے پر مسلمانوں کو غیر بھارتی ڈکلیئر کر دیا جاتا ہے۔

بھارت میں مسلمان شخص کے بچوں کا علاج نہیں کیا گیا۔طبی عملے نے یہ کہہ کر انکار کر دیا کہ مسلمان کورونا وائرس پھیلا رہے ہیں۔ بھارت کی مختلف ریاستوں میں مسلمانوں کو معمولی بات پر پولیس کے سامنے مار دیا جاتا ہے اور پولیس کو کارروائی کرنے کی بھی اجازت نہیں دی جاتی۔ مسلم اکثریتی علاقے جہاں سے پہلے مسلمان سیاستدان منتخب ہوا کرتے تھے اب ان علاقوں میں کوئی مسلم نمائندہ منتخب نہیں ہوا۔

اب بھارت میں بابری مسجد اور اس کے نواحی علاقوں میں آذان دینے پر بھی پابندی عائد کر دی گئی ہے اور ایسی صورتحال میں مسلمان کن مشکلات کے شکار ہیں صرف اندازہ ہی کیا جا سکتا ہے۔وقت آ گیا ہے کہ مسلمان اپنے مسلمان بھائیوں کی مدد کیلئے ان تصاویر اورویڈیوز کو دیکھیں اور اس مسلم مخالف نظریئے کا ہرمحاذ پر جواب دیں بالخصوص سوشل میڈیا پر دنیا کی آنکھیں کھولی جائیں تاکہ بھارت میں موجود مسلمانوں کی داد رسی کی جا سکے۔


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >