امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کرونا سے بچاؤ کیلئے کونسی دوا استعمال کررہے ہیں؟

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کرونا ٹیسٹ تو منفی آگیا لیکن وہ اس وائرس سے بچاؤ کیلئے مکمل احتیاطی تدابیر اپنا رہے ہیں، ٹرمپ نے کرونا سے بچاؤ کیلئے ہائیڈروکسی کلوروکوئن صرف کھانے کا ہی مشورہ نہیں دیا بلکہ امریکی صدر خود بھی اسی دوا کا استعمال کررہے ہیں۔امریکی صدر ڈونلڈ نے میڈیا سے گفتگو میں بتایا کہ وہ کئی ہفتوں سے ملیریا کے علاج کے لیے استعمال کی جانے والی دوا ہائیڈروکسی کلوروکوئن کو احتیاطی طور پر کرونا سے بچاؤ کیلئے استعمال کر رہے ہیں۔

صدر ٹرمپ نے کہا کہ وہ کہ ابھی ابتدائی ڈوز لے رہے ہیں۔ اور روز ایک گولی لے رہے ہیں،ان میں کوئی علامات ظاہر نہیں ہوئی، یہ دوا اثر دکھا رہی ہے۔ شاید یہ اثر رکھتی ہے یا نہیں، لیکن آپ بیمار ہو کر مریں گے نہیں۔ میں یہ دوا لے رہا ہوں۔ اور میں بتاسکتا ہوں کہ ابھی تک میں بالکل تندرست محسوس کر رہا ہوں۔

صدر ٹرمپ نے بتایا کہ وہ یہ دوا اس لیے لے رہے ہیں کہ انہیں طبی ماہرین کی جانب سے بہت سی کالز موصول ہوئی ہیں، جس میں اس دوا کی تعریف کی گئی،جبکہ امریکا میں بعض کرونا متاثرین ہائیڈروکسی کلوروکوئن کے استعمال سے صحتیاب بھی ہوئے ہیں۔ دوسری جانب محمکہ صحت کا وفاقی ادارہ اس دوا کے مضر اثرات کے حوالے سے تنبیہ کرچکا ہے۔ انتباہ میں کہا گیا کہ ‘ایف ڈی اے اس بات سے واقف ہے کہ وہ افراد جو کووڈ 19 کا شکار ہیں اور ان کا علاج ہائیڈروکسی کلوروکوئن سے کیا جا رہا ہے

،بیرونی مریضوں بھی اس دوا کا استعمال کررہے ہیں، ہم طبی عملے اور مریضوں کو یہ یاددہانی کروانا چاہتے ہیں کہ وہ ہائیڈروکسی کلوروکوئن اور کلوروکوئن سے جڑے خدشات کو یاد رکھیں۔ ہم ہائیڈروکسی کلوروکوئن اور کلوروکوئن سے جڑے خطرات کی تحقیق جاری رکھیں گے جو کہ کووڈ 19 کے علاج کے حوالے سے ہیں اور عوام کو بھی اس سے آگاہ کریں گے، جب ہمارے پاس معلومات ہوں گی۔

صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ وہ وائٹ ہاؤس کی طبی ٹیم کی نگرانی میں یہ دوا لے رہے ہیں۔وائٹ ہاؤس کی جانب سے صدر ٹرمپ کے ڈاکٹر نیوی کڈر شان کونلی نے بھی اس بات کی تصدیق کی کہ صدر ٹرمپ ان دونوں کے درمیان گفتگو کے بعد یہ دوا لے رہے ہیں۔ اس دوا کے ممکنہ فوائد خدشات سے کئی زائد ہیں۔

امریکا میں کرونا وائرس سے ایک دن میں سات سو پچیاسی اموات ہوچکی ہیں، تعداد اکیانوے ہزار نو سو اکیاسی ہوچکی ہیں، جو اب تک کی کسی بھی ملک کی سب سے زیادہ ہلاکتیں ہیں،جبکہ ایک دن میں اکیس ہزار پانچ سو کیسز رپورٹ ہوئے ہیں، متاثرین کی تعداد پندرہ لاکھ پچاس ہزار دو سو چورانوے ہے، امریکا کے بعد سب سے زیادہ 34,876 اموات برطانیہ میں ہوئی ہیں جبکہ اٹلی میں ہونے والی اموات کی تعداد 32,007 ہے۔


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >