امریکی پولیس اہلکار کی سرعام اور بلاوجہ سیاہ فام شخص کو قتل کرنے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل

امریکہ میں سر عام اور بلاوجہ سیاہ فام شخص کے قتل کی ویڈیو منظر عام پر، واقعے میں ملوث پولیس اہلکار نوکری سے فارغ


تفصیلات کے مطابق کچھ روز قبل امریکہ میں پولیس کے ہاتھوں سرعام اور بلاوجہ ایک سیاہ فام شخص قتل ہو گیا تھا، جس کے قتل کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہے، وائرل ہونے والی مذکورہ ویڈیو میں واضح طور پر دیکھا جاسکتا ہے کہ کس طرح سے پولیس والا سیاہ فام شخص کی گردن پر گھٹنہ رکھے اس کی گردن کو تب تک دباتا رہا جب تک کہ وہ مر نہ گیا۔

جارج فلائیڈ نامی سیاہ فام شخص کو پولیس نے چوری کے جرم میں حراست میں لیا تھا، پولیس والے نے جارج کو حراست میں لے کر بیچ سڑک پر الٹا لٹا کر پہلے ہاتھوں کو ہتھکڑی لگائی اس کے بعد پولیس والے نے جارج کی گردن پر اپنا ایک گھٹنہ مسلسل پانچ منٹ تک رکھے رکھا۔

مذکورہ وائرل ویڈیو میں واضح طور پر دیکھا جاسکتا ہے کہ جارج پولیس والے سے اپنا گھٹنہ ہٹانے اور سانس لینے کے لئے درخواست کرتا ہے لیکن پولیس والا اپنا گھٹنا نہیں ہٹاتا جس کے بعد جارج پانچ منٹ میں اپنی جان دے دیتا ہے۔ واقعے کی ویڈیو پاس سے گزرنے والے لوگوں نے اپنے موبائل فون میں ریکارڈ کر لی، جبکہ پولیس والا لوگوں کو ویڈیو ریکارڈ کرنے سے منع کرتا رہا۔

جارج کے قتل کے واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد واقعہ میں ملوث چار پولیس اہلکاروں کو معطل کرتے ہوئے واقعے کی مزید تحقیقات ایف بی آئی کو سونپ دی گئی ہیں، تحقیقات کے بعد واقعہ میں ملوث پولیس اہلکاروں کے خلاف مزید کارروائی کی جائے گی۔

دوسری جانب منیلا کے مئیر جیکب فرے نے واقعہ پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے عوام سے معافی مانگی لی، مذکورہ قتل کے واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد جیکب فرے کی جانب سے پریس بریفنگ کی گئی جس میں وہ افسوسناک واقعے کا ذکر کرتے ہوئے آبدیدہ ہو گئے۔

جیکب فرے کا اپنی پریس بریفنگ میں کہنا تھا کہ جو کچھ بھی منظر ہم نے دیکھا وہ بہت ہی افسوسناک تھا، مکمل طور پر بے انتہا غلط تھا، اس شخص کی زندگی کی اہمیت تھی، وہ کسی کا بیٹا تھا کسی کا رشتہ دار تھا، امریکا میں سیاہ فام ہونے کی سزا موت نہیں ہونی چاہیے، میں سیاہ فام کمیونٹی اور اس کے خاندان سے معافی مانگتا ہوں۔

OR comment as anonymous below

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے


24 گھنٹوں کے دوران 🔥

View More

From Our Blogs in last 24 hours 🔥

View More