ٹک ٹاک مخالف بھارت کی جانب سے متعارف کروائی گئی ایپ پاکستان میں بنائی گئی

ٹک ٹاک مخالف بھارت کی جانب سے متعارف کروائی گئی اپلیکیشن پاکستان میں بنائی گئی

چین سے ٹینشن کے بعد بھارت کی جانب سے مشہور چینی ویڈیو اپلیکیشن ٹک ٹاک کے بائیکاٹ کے بعد اس کے مقابلے پر متعارف کروائی گئی دیسی اپلیکیشن ‘مترون’ دراصل پاکستان میں تیار کی گئی ۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق مترون ایپ پاکستانی ویڈیو ایپ ٹک ٹک کی جدید شکل ہے، جسے مترون نے کوڈ سین یان سے 34 ڈالرز کے عوض خریدا اور اس کی سیکیورٹی فیچرز ابھی بھی وہی ہیں جو ٹک ٹک میں رکھے گئے تھے۔
دلچسپ بات یہ کہ جس روز یہ ثابت ہوا کہ مترون بھارت میں تیار کردہ اپلیکیشن نہیں ہے اسی روز بھارت کے الیکٹرونکس اور آئی ٹی کے منسٹر روی شنکر پرساد نے اپلیکیشن کو چینی ٹک ٹاک اور فیس بک کو بہترین جواب قرار دیا اور کہا کہ”میں جھانسی کے شیوانک اگروال کو مبارک باد پیش کرتا ہوں جنہوں نے ٹک ٹاک اور فیس بک کی ٹکر پر مترون جیسا پلیٹ فارم متعارف کروایا۔

انہوں نے مزید کہا کہ چند ہی دنوں میں اس اپلیکیشن کو 50 لاکھ لوگوں نے ڈاؤن لوڈ کیا ہے، یہ بہترین ایجاد کورونا کے بحران میں سامنے آئی ہے ۔
مترون ایپلیکیشن کو 11 اپریل کو متعارف کروایا گیا اس کو ایجاد کرنے کا سہرا شیوانک اگروال کے سر باندھا گیا جو آئی آئی ٹی رورکی کے سابق سٹوڈنٹ ہیں، اس اپیلیکشن میں صارف کو 15 سیکنڈ کی چھوٹی چھوٹی ویڈیو ز اپلوڈ کرنے کی سہولت حاصل ہوگئی۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق اس اپیلیکشن میں ٹک ٹک والے سیکیورٹی خدشات ابھی بھی موجود ہیں، پہلا یہ کہ اپلیکیشن کے ساتھ ذرا سی چھیڑ چھاڑ کے بعد صارفین کو کسی ایک اکاؤنٹ کو فالو کرنے پر مجبور کیا جاسکتا ہے، اور دوسرا کوئی بھی چند سیکنڈز میں کسی بھی صارف کے اکاؤنٹ آتھرآئیزیشن کو بائی پاس کرسکتا ہے۔

سیکیورٹی ریسرچر راہول کانکرلے نے ان  کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ تمام خدشات پاکستانی اپلیکیشن ٹک ٹک میں موجود تھے تو یہ اسی طرح مترون میں بھی موجود ہیں اس میں اکاؤنٹس کی سیکیورٹی کیلئے کسی قسم کی سیکیورٹی کو مدنظر نہیں رکھا گیا تو کوئی بھی اکاؤنٹ ہیک ہوسکتا ہے۔

OR comment as anonymous below

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے


24 گھنٹوں کے دوران 🔥

View More

From Our Blogs in last 24 hours 🔥

View More