امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی اپنی تقریر میں مارشل لاء کی دھمکی

امریکہ میں پولیس اہلکار کے ہاتھوں قتل کیے جانے والے سیاہ فام جارج فلائڈ نامی شہری کے واقعہ کے بعد مختلف ریاستوں میں احتجاج پھوٹ پڑے ہیں جس پر امریکی صدر نے اپنی ایک تقریر میں کہا کہ انہوں نے تمام ریاستوں کے گورنروں کو ہدایات دی ہیں کہ مظاہرین کو قابو کرنے کیلئے معقول تعداد میں امریکی فوج اور سپیشل فورس کے اہلکاروں کو تعینات کر کے مظاہرین کو قابو کریں۔

 

آج امریکی ریاست واشنگٹن ڈی سی میں 600 سے 800 نیشنل گارڈز کے اہلکاروں کو تعینات کر کے مظاہرین پر اس وقت لاٹھی چارج کیا گیا جب وہ وائٹ ہاؤس کے قریب احتجاج کر رہے تھے۔

امریکی صدر نے اپنی تقریر میں کہا کہ میں بطور امریکی صدر قوم کا محافظ ہوں اور میں اس کے لیے حفاظتی اقدامات کروں گا۔ انہوں نے کہا کہ وہ امریکا میں موجود ہر شہری کے صدر ہیں مگر حالیہ دنوں میں کچھ انتشار پسندوں کی جانب سے احتجاج کیا جا رہا ہے

انہوں نے کہا اس مظاہرے میں شدت پسند ، پیشہ ور غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث افراد اور انتیفا کے لوگ شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہر گورنر کو ہدایت دی ہے کہ گلیوں بازاروں میں اتنی تعداد میں نیشنل گارڈ کو تعینات کیا جائے کہ حکومتی رٹ نظر آئے۔

ڈونلڈٹرمپ نے مزید کہا کہ سپیشل فورس اور نیشنل گارڈز کو اتنی دیر تک تعینات رکھا جائے جب تک ان مظاہرین کا گلیوں سے خاتمہ نہ ہو جائے یا جب تک یہ مظاہرہ مکمل طور پر ختم نہ ہو۔

انہوں نے کہا کہ اگر کسی گورنر کی جانب سے ضروری اقدامات نہ کیے گئے تو پھر وہ خود بطور امریکی صدر اس ریاست میں امریکی فوج کے اہلکاروں کو تعینات کردیں گے۔ انہوں نے مظاہرین پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ پر امن مظاہرین کی روش نہیں ہے۔

امریکی صدر کے اس بیان کے بعد امریکی عوام میں ایک تشویش کی لہر پائی جاتی ہے اور امریکی عوام یہ سوچنے پر مجبور ہیں کہ کیا امریکہ جیسے جمہوریت کی سب سے بڑی علمبردار کہے جانے والے ملک میں فوج کی مدد سے مارشل لا لگایا جار ہا ہے، امریکی شہری یہ سوچ کر پریشان ہیں کہ آخر کار نہتے شہریوں کے مطالبات تسلیم کرنے کے بجائے ان کو کچلنا امریکی صدر کے قریب اتنا اہم کیوں ہے۔

OR comment as anonymous below

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے


24 گھنٹوں کے دوران 🔥

View More

From Our Blogs in last 24 hours 🔥

View More