کینیڈا کے وزیر اعظم ٹرمپ کے احتجاجیوں کے ساتھ سلوک کے سوال پر سکتے میں چلے گئے

صحافی نے جسٹسن ٹروڈو سے امریکہ میں مظاہرین پر آنسو گیس کے استعمال پر اظہار رائے طلب کیا کہ امریکی صدر کس طرح لوگوں کو دبانے کیلئے طاقت کا استعمال کر سکتے ہیں۔ صحافی نے کہا کہ امریکی صدر مظاہرین کو روکنے کیلئے امریکی فوج سے مدد طلب کرنے کا بھی کہتے ہیں۔

اس سوال کا جواب دینے سے پہلے کینیڈین وزیراعظم جسٹن ٹروڈو 20 سیکنڈ سے زیادہ کا توقف کر کے سوچتے رہے اور پھر بولے کے کینیڈین شہری امریکہ میں ہونے والے اس واقعہ کو خوف کی نظر سے دیکھتے ہیں۔

گزشتہ روز ہونے والی نیوز بریفنگ میں جب رپورٹر نے جسٹن ٹروڈو سے سوال کیا کہ امریکہ میں مظاہرین کے خلاف امریکی فوج کے استعمال سے متعلق امریکی صدر کے بیان کو وہ کس طرح دیکھتے ہیں تو ٹروڈو نے جواب دیا کہ امریکہ میں جو کچھ چل رہا ہے کینیڈین شہری اس کو خوف کی علامت سمجھتے ہیں۔صحافی نے گزشتہ روز مظاہرین پر آنسو گیس کے استعمال اور سپیشل فورس کی مدد سے ان کو ہٹانے سے متعلق بھی سوال کیا کہ کیا یہ آئندہ صدارتی انتخاب پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔

جسٹن ٹروڈو نے کہا کہ یہ وقت ہے کہ لوگوں کو اکٹھا کیا جائے اور ان کو ساتھ لے کر چلنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ یہ دیکھنے کی ضرورت ہے کہ اتنے سالوں سے آخر کیا ناانصافی ہوتی آرہی ہے جس کے خلاف لوگ آواز اٹھا رہے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ کینیڈا میں بھی نسل پرستی کے خلاف اٹھنے کا وقت ہے اور ہمیں کینیڈا میں بھی نسل پرستی کے تاثر کو ختم کرنا چاہیے۔

صحافی نے پھر سے امریکی صدر کے الفاظ اور اس پر عملدرآمد سے متعلق سوال کیا تو کینیڈین وزیراعظم نے کہا کہ بطور کینیڈین وزیراعظم میرا کام کینیڈا کے لوگوں سے متعلق بات کرنا اور ان سے متعلق سوچنا ہے۔

    Prime Minister (37k + posts)

    افغانستان، پاکستان، عراق، لیبیا، شام کے مسلمانوں پر ٹنوں بارود اور دھات برسانے کا ذرہ بھر بھی افسوس نہیں

OR comment as anonymous below

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے


24 گھنٹوں کے دوران 🔥

View More

From Our Blogs in last 24 hours 🔥

View More