اسرائیلی پولیس کی جارحیت,ذہنی معذور فلسطینی نوجوان شہید,فلسطینی سراپا احتجاج

اسرائیلی پولیس کی نہتے فلسطینیوں کے خلاف جارحیت تھم نہ سکی,اس بار بزدل پولیس نے ذہنی معذور ایاد الحاق کو نشانہ بنایا,مقبوضہ مشرقی بیت المقدس میں ہفتے کو ذہنی طور پر معذور 32 سالہ ایاد الحلاق کو اس وقت اسرائیلی پولیس نےگولی مار کر شہید کیا جب وہ خصوصی بچوں کی تعلیم کے اسکول جا رہے تھے۔

اسرائیل پولیس نے موقف اپنایا کہ معمول کے گشت کے دوران ان کے ایک اہلکار کو شبہ ہوا کہ ایاد الحلاق مسلح ہیں اور جب ان کو روکنے کا اشارہ کیا گیا اور وہ نہیں رکے تو ان پر گولی چلا دی گئی۔ ایاد کو شہید کر کے اسرائیلی پولیس کو معلوم ہوا کہ وہ غیر مسلح تھے۔

والد کا کہنا ہے کہ ان کا بیٹا بہت پرامن تھا,وہ اسکول جا رہا تھا,وہ پولیس سے ڈر گیا تھا, پولیس نے اسے متعدد بار فائرنگ کی اور وہ شہید ہوگیا,والدہ نے کہا میرا بیٹا معذور تھا وہ کیسے ہتھیار اٹھا سکتا تھا پولیس کو تو زیادہ خیال رکھنا چاہئے تھا اسکی معذوری کا دوسری جانب اسرائیلی وزیردفاع بنی گانز نے واقعے پر معافی مانگتے ہوئے اہلخانہ سے اظہار تعزیت کیا اور کہا کہ واقعے کی تحقیقات کی جائے گی۔

 

اسرائیلی کابینہ کے اتوار کو ہونے والے اجلاس میں بنی گانز نے کہا کہ ‘ایاد الحلاق کو گولی لگنے کے واقعے پر ہم معذرت خواہ ہیں اور بلاشبہ ہم ان کے غم میں ان کے گھر والوں کے ساتھ شریک ہیں۔ مجھے یقین ہے کہ اس واقعے کی جلد از جلد تحقیقات مکمل کی جائیں گی اور ان سے نتائج اخذ کیے جائیں گے۔ اسرائیل کی سیکیورٹی فورسز ہر ممکن کوشش کریں گے کہ طاقت کا استعمال جہاں ضروری ہو وہیں کریں تاکہ کم سے کم جانی نقصان ہو۔

فلسطینی حکام نے کہا ہے کہ وہ اسرائیل اور امریکا کے ساتھ معاہدوں کے پابند نہیں رہے ہیں جن میں فلسطینی علاقوں میں سیکیورٹی کا معاہدہ بھی شامل ہے۔ایاد الحلاق ہر روز بیت المقدس کے علاقے وادی الجوز سے شہر کے قدیم حصے میں خصوصی بچوں کو تعلیم دینے والے ایون القدس مرکز پیدل جاتے تھے۔

ایاد الحلاق کے کزن ڈاکٹر حاتم عووی نے بتایا کہ ایاد کی بیماری کی نوعیت کافی شدید تھی اور ان کو لوگوں کی سمجھنے اور اپنی بات سمجھانے میں خاصی دشواری پیش آتی تھی۔انھوں نے اسرائیلی اخبار سے گفتگو میں بتایاکہ ایاد کو معلوم نہیں تھا کہ پولیس آفیسر کیا ہوتا ہے۔ ایاد نے ایک اجنبی دیکھا اور وہاں سے بھاگنے کی کوشش کی اور پھر ان کو گولی مار دی گئی۔

ایاد الحلاق صرف اپنی ماں اور باپ سے بات کرتے تھے پولیس نے مزید کہا کہ اس مشتبہ شخص کو رکنے کا کہا گیا جس کے بعد ان کا تعاقب کیا گیا اور ایک آفیسر نے ان پر گولی چلا دی۔ جائے وقوع کی تلاش لینے پر کوئی ہتھیار برآمد نہیں ہوا۔

ایاد الحلاق کے پوسٹ مارٹم سے پتا چلا کہ ان کی موت سینے میں دو گولیاں لگنے سے واقع ہوئی۔الحلاق خاندان کے وکیل نے کہا ہے کہ پوسٹ مارٹم کی رپورٹ سےثابت ہوتا ہے کہ پولیس آفیسر نے جرم کیا ہے اور وہ امید کرتے ہیں کہ تفتیش کرنے والے ان ہی خطوں پر تفتیش مکمل کریں گے اور پولیس اہلکار پر مقدمہ چلایا جائے گا۔

فلسطینی لبریشن آرگانزئشن کے سیکریٹری جنرل صائب ارکات نے اسرائیلی مظالم کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ جب تک دنیا اسرائیل کو قانون سے بالاتر ریاست سمجھتی رہے گی اس طرح کے جرائم پر انصاف نہیں ہو گا۔اسرائیلی پولیس کی فائرنگ سے شہید ہونے والے ذہنی معذور نوجوان کی نماز جنازہ ادا کردی گئی, جنازے میں سیکڑوں فلسطینیوں نے شرکت کی۔

ایاد الحاق کی شہادت کے بعد فلسطینی اور اسرائیلی شہریوں نے بیت المقدس تل ابیب اور جافا میں ہفتے اور اتوار کو احتجاج کیا۔ شرکا نے ‘ایاد کے لیے انصاف’ اور ‘فلسطینی جانیں بھی معنی رکھتی ہیں۔’

کہ پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے.سیکڑوں افراد نے اسرائیلی جارحیت کیخلاف پولیس ہیڈ آفس کے باہر شدید احتجاج کیا,مظاہرین نے اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کو قتل کا ذمہ دار ٹھہرایا.اس سے فروری اور مئی میں بھی اسرائیلی پولیس دو نوجوانوں کو شہید کرچکی ہے

OR comment as anonymous below

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے


24 گھنٹوں کے دوران 🔥

View More

From Our Blogs in last 24 hours 🔥

View More