لاک ڈاؤن کے اثرات، اٹلی میں طلاق کے کیسز میں30فیصداضافہ

لاک ڈاؤن کے اثرات، اٹلی میں گھریلو لڑائی جھگڑوں، تشدد اور طلاق کے کیسز میں30فیصداضافہ

لاک ڈاؤن کے باعث دنیا بھر میں گھریلو تشدد میں اضافہ بڑھتا جارہاہے جس سے ازدواجی زندگیاں خطرے میں پڑ گئی ہیں، جس کا نتیجہ طلاق کی صورت میں سامنے آرہاہے، اٹلی یورپ کا کرونا سے سب سے زیادہ متاثرہ ملک ہے جہاں طویل لاک ڈاون رہا ہے جس سے گھریلو لڑائی جھگڑے بھی بڑھ گئے ہیں، اٹلی میں لاک ڈاون کے دوران طلاق کی درخواستوں میں اضافہ ہوا ہے ۔

برطانوی اخبار کے مطابق گزشتہ 10ہفتوں میں اٹلی میں طلاق کے کیسز 30فیصد تک بڑھ گئے ہیں۔

اطالوی وکلا نے برطانوی اخبار کو بتایا کہ لاک ڈاون کے دوران ان کے پاس طلاق کے کیسز ، طلاق کے بارے میں معلومات لینے والوں اور طلاق کی کارروائیاں شروع کروانے والوں کی تعداد 30فیصد بڑھی ہے ۔

دوسری جانب لندن میں طلاق کیلئے قانونی جنگ نے میاں بیوی کا دیوالیہ نکال دیا، جج کا کہنا ہے کہ اپنی طلاق کیلئے دو سال تک جنگ کرنے والے جوڑے نے تقریباً ایک ایک پیسہ اپنے وکلاء پر لگا دیا ہے جبکہ اس معاملے کے حل کے بعد ان کے پاس خود کیلئے عملی طو رپر کچھ نہیں بچا ہے۔ جوڑے نے وکلاء پر دو سالوں میں 5 لاکھ 94 ہزار پونڈز خرچ کردیئے ان کے پاس صرف 5 ہزار پونڈز رہ گئے ہیں۔

اور اب 53 سالہ شخص اور اس کی 50 سالہ بیوی 22 سال بعد علیحدہ ہوگئے، دونوں کے تین بچے بھی ہیں۔

دنیا میں کروناوائرس سے 402، 429افراد ہلاک ہوچکے ہیں، متاثرین کی تعداد6، 993، 586ہے

OR comment as anonymous below

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے


24 گھنٹوں کے دوران 🔥

View More

From Our Blogs in last 24 hours 🔥

View More