مودی کی دورہ لداخ میں چین کو ”ہومیوپیتھک“ گیدڑ بھبکیوں سے ڈرانے کی کوشش

جس جگہ بھارت نے چین سے شکست کھائی، بھارتی وزیراعظم نریندری مودی وہ مقام دیکھنے پہنچ گئے۔ جی ہاں بھارتی وزیراعظم نریندر موددی نے چین سے ناکامی کے بعد لداخ کا دورہ کیا ،لداخ وہی علاقہ ہے جہاں چینی اور بھارتی فوجیوں کے درمیان جھڑپ ہوئی اور چین فوج نے بھارت کے بیس فوجی ہلاک کردیئے۔

نریندر مودی گزشتہ روز لداخ کے علاقے لیہ پہنچے تو انہیں بھارتی فوج نے متنازع علاقے کی تازہ ترین صورتحال پر بریفنگ دی۔ اس دورے کے دوران شاید مودی چین سے اپنی ناکامی بھول گئے تھے اسی لئے بڑے بڑے دعوے کرتے رہے، مودی نے لداخ میں نمو کے مقام پر اگلے مورچوں پر فوجیوں سےخطاب میں کہا کہ بھارت کیلئے مذموم عزائم رکھنے والے کو خاک میں ملادیا جائے گا۔ چین کا نام لیے بغیر کہا کہ اگر کسی نے لداخ کے کسی بھی حصے پر قبضے کی کوشش کی تو بھارتی مسلح افواج اسے پوری طاقت سے ناکام بنادے گی۔

بھارتی وزیراعظم نے مزید کہا کہ اب توسیع پسندی کا زمانہ گزر چکا۔ یہ ترقی کا دور ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ توسیع پسند افواج یا تو شکست کھاتی ہے یا اسے پیچھے ہٹنے پر مجبور ہو جاتی ہیں۔

لداخ کے علاقے وادی گلوان میں کرنل سمیت بہار رجمنٹ کے بیس فوجیوں کی ہلاکت کے سترہ روزمودی نے اس اچانک دورے کے دوران چین کے ساتھ جھڑپ میں زخمی ہونے والے زیر علاج فوجیوں کی عیادت بھی کی۔بھارتی چیف آف جنرل اسٹاف جنرل بپن راوت اور آرمی چیف منوج موکنڈ نراوانے بھی مودی کے ہمراہ تھے۔

چین اور بھارت کے درمیان متازع لائن آف ایکچوئل کنٹرول پر بڑھتی کشیدگی کے موقع پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے لیہ کے اس اچانک دورے کو بھارتی میڈیا میں اہمیت دی جا رہی ہے۔ ریٹائرڈ اعلی فوجی اہلکار اور بعض تجزیہ کار سمجھتے ہیں کہ مودی کا یہ دورہ چین کو واضح پیغام ہے۔

بی بی سی سے گفتگو میں ریٹائرڈ لیفٹننٹ جنرل ڈی ایس ہوڈا نے کہا کہ بے شک یہ جگہ اس مقام سے بہت دور ہو جہاں چین اور بھارت کے فوجیوں کے درمیان پرتشدد جھڑپ ہوئی لیکن یہ اسی علاقے میں آتا ہے۔

وزیراعظم کے دورے سے چین کو یہ پیغام مل گیا ہوگا کہ بھارت اس معاملے کو کو سنجیدگی سے دیکھ رہا ہے۔اس سے سرحد پر تعینات فوجیوں کے حوصلے بھی بلند ہوں گے۔ دورہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ آگے حالات مزید خراب ہوسکتے ہیں، اور اس وجہ سے اس وقت حالات کو قابو میں رکھنے کی ذمہ داری وزیر اعظم کی ہے۔ اس دورے میں وہ اسی ذمہ داری کو پورا کرتے نظر آ رہے ہیں۔

جب ریٹائرڈ لیفٹننٹ جنرل ڈی ایس ہوڈا سے سوال پوچھا گیا کہ بھارت اور چین کے درمیان سرحد پر کشیدگی دور کرنے کے لیے مذاکرات پر اس کا کوئی اثر دیکھنے کو مل سکتا ہے؟

تو انہوں نے کہا کہ اگر مذاکرات کا اثر مثبت ہوتا تو شاید وزیر اعظم کے وہاں جانے کی نوبت نہیں آتی۔

سینیئر صحافی نیرجا چوہدری نے کہا کہ معاملہ جتنا نظر آ رہا ہے اس سے زیادہ سنگین ہے۔ اس لیے بھارت کو چین کے سامنے اور سنجیدگی سے پیش آنا ہوگا۔ نیرجا چوہدری نے کہا کہ چین کو وزیر اعظم پیغام بھیج رہے ہیں کہ بھارت کی تیاری پوری ہے۔


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >