کورونا وائرس کے بعد چین میں بلیک ڈیتھ”طاعون” کی وارننگ جاری

چین سے دنیا بھر میں پھیلنے والی عالمی وباء کورونا وائرس کے بعد چینی حکام نے بلیک ڈیتھ نامی طاعون وائرس کیلئے انتباہ جاری کردیا ہے۔

عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق چینی ریاست منگولیا میں "بلیک ڈیتھ ” نامی طاعون کے کیسز سامنے آنے پر حکام نے انتباہ جاری کردیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق بیانور شہر سے تعلق رکھنے والا ایک چرواہا بلیک ڈیتھ طاعون کا شکار ہوگیا ہے، اسے قرنطینہ کردیاگیا ہے، تاہم کہا جارہا ہے مریض کی حالت مستحکم ہے۔

یہ طاعون بیکٹریا کے انفیکشن کی وجہ سے ہوتا ہے، یہ جان لیوا بیماری ہوسکتی ہے اگر اس کا  اینٹی بائیوٹیک سے علاج نہ کیا جائے ۔

ابتدائی معلومات کے مطابق مریض کو یہ بیماری کیسے منتقل ہوئی اس کی ابھی تک کسی قسم کی معلومات تا حال حاصل نہیں ہوسکی ہیں، تاہم چینی حکام نے اس بیماری کے حوالے سے تیسرے درجے کی وارننگ جاری کردی ہے۔

اس وارننگ کے تحت جن جانوروں سے طاعون کی یہ بیماری ہونے کا خدشہ ہے اس کو کھانے اور اس کے شکار پر پابندی عائد کردی گئی ہے، اور اس حوالےسے کسی بھی قسم کے مشتبہ معاملات سے حکام کو فوراً مطلع کرنے کا بھی کہا گیا ہے۔

  • وہ جو کچھ بھی کھاتے ہیں اپنے کلچر کے مطابق کھاتے ہیں۔ دنیا کے کے دوسرے بہت سے ممالک میں بھی عجیب و غریب چیزیں کھائ جاتی ہیں۔ شاید آپ نے بھی کبھی کالاماری اور جھینگے کھاۓ ہوں یہ جانے بغیر کہ اس کی مذہب میں کیا حیثیت ہے۔ طاعون کے چھوٹے موٹے واقعات افریقہ میں بھی ہوتے رہتے ہیں۔ کم از کم چینی حکومت سد باب کے فوری انتظامات تو کرتی ہے۔ جب کورونا کے بارے میں کوئ کچھ نہیں جانتا تھا تب چین نے اس وبا کو مریضوں کی کل تعداد 84 ہزار کے اندر اندر قابو کر لیا تھا۔ امریکہ میں تو اموات کی تعداد بھی اس سے زیادہ ہو چکی ہے۔ بلکہ امریکہ میں تو ایک دن میں 55 ہزار تک نۓ مریض ریکارڈ ہو چکے ہیں۔ چینی قوم اپنا کلچر نہیں بدلے گی۔ لیکن وہ اپنا قومی کردار ضرور افیمیوں سے بدل کر دنیا منظم ترین اور سب سے منظم قوم تک بدل چکے ہیں۔ ہمیں اس بات پر غور کرنا چاہۓ کہ چینیوں نےدس ہزار بستروں کا ہسپتال دس دن میں کیسے قائم کر لیا


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >