ترکی کی تاریخی عمارت”آیا صوفیہ” ایک بار پھر مسجد میں بدل گئی

ترکی کی اعلی ترین عدالت نے تاریخی عمارت آیا صوفیہ کو میوزیم سے دوبارہ مسجد سے کادرجہ دیدیا ہے۔
1600 برس قبل تعمیر ہونے والی اس عمارت کو 80 برس قبل 1934 میں مصطفی کمال اتاترک نے میوزیم میں تبدیل کیا تھا، ترکی کی اعلی ترین عدالت کونسل آف سٹیٹ نے اس مسجد کو میوزیم بنانے کے فیصلے کو قانون سے متصادم قرار دیدیا ہے۔

6ویں صدی میں عیسائیوں نے اپنی عبادت گاہ کے طور پر اس عمارت کو تعمیر کیا تھا جسے سلطنت عثمانیہ کے سلطان محمد دوئم نے  فتح کرکے  مسجد میں تبدیل کردیا تھا۔

دہائیوں سے اس عمارت کو اس کے سربراہوں کی جانب سے محفوظ رکھا گیا اور اسی طرح جب یہ علاقہ سلطنت عثمانیہ کے قبضے میں آیا اور انہوں نے استنبول کودارالخلافہ بنایا تو اس عمارت کو اس کے رتبے کے اعتبار سے مسجد میں تبدیل کردیا، یہ عمارت بطور مسجد بھی اپنے مقام و مرتبے پر فائز رہی۔

حکومت کے مطابق دوبارہ مسجد بن جانے پر اس عمارت کے اندر سیاحوں کیلئے الگ اور نماز کیلئے الگ جگہ مختص کی جائے گی، مسجد میں تبدیل ہوجانے سے یہ عمارت اپنی تاریخی حیثیت بھی قائم رکھے گی اور یہ دیگر مذاہب سے تعلق رکھنے والے سیاحوں کیلئے بھی کھلی رہے گی۔

آیا صوفیہ کی تاریخی اہمیت پر بنی شارٹ ڈاکیومنٹری:

  •  

    یہ عمارت ٥٣٧ میں صلیبیوں نے بنائی تھی اور اسے کلیسہ کی حیثیت دی 

    ١٤٥٣ میں عثمانی خلافت کے قیام کے بعد اسے مسجد بنا دیا گیا 

    ١٩٣٥ میں ترکی کو سکولر حکومت میں تبدیل ہونے کے بعد اسے عجائب خانہ بنا دیا گیا 

    آج ترک حکومت نے اس عمارت کی حیثیت کو دوبارہ مسجد میں تبدیل کردی 

     

    ہم قرطبہ اور غرناطہ کی مساجد کے لئے آنسو بہاتے ہیں کہ مسلمانوں کے ایسے علم کے گہوارے آج کلیسہ کی گھنٹیوں سے گونج رہے ہیں 

    دوسری طرف ہم نے بھی تو ایسا ہی کام کیا ،   کلیسہ کو زبردستی مسجد میں تبدیل کردیا اور خوشیاں منا رہے ہیں 


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >