ایران نے بھارت کو چاہ بہار ریل پراجیکٹ سے الگ کر دیا

ایران نے فنڈز میں تاخیر کرنے پر بھارت کو چاہ بہار ریلوے پراجیکٹ سے الگ کر دیا ہے۔اب ایرانی حکومت نے اپنے طور پر ریل پراجیکٹ کی تعمیر کا فیصلہ کیا ہے۔

بھارت اور ایران کے درمیان چار سال قبل یہ معاہدہ طے پایا تھا جس کے تحت افغانستان کی سرحد کے ساتھ چاہ بہار سے زاہدان تک ریلوے کی تعمیر کی جانی تھی۔ بھارتی اخبار نے بتایا کہ ایران نے پراجیکٹ شروع کرنے اور فنڈنگ میں تاخیر کرنے پر بھارت کو اس سے الگ کر دیا ہے۔ایرانی حکام نے بھارتی میڈیا کو بتایا کہ پراجیکٹ مارچ 2022 تک مکمل ہوگا اور ایران اب اسے بھارت کے بغیر مکمل کرے گا۔

ایران اور بھارت کے مابین 24 دسمبر2019 کو یہ معاہدہ طے پایا تھا۔ واضح رہے کہ چاہ بہار بندرگاہ بھارت، ایران اور افغانستان کے مشترکہ تعاون سے تیار ہورہی تھی جو بحر ہند میں پاکستان کی سرحد سے تقریباً 100 کلومیٹر مغرب میں واقع ہے۔

بندرگاہ کی تعمیر کا کام ایران پر پابندیوں میں کمی کے باوجود تعطل کا شکار رہا لیکن پھر امریکا نے ایران کے ساتھ 2015 کے جوہری معاہدے سے دستبردار ہونے کے بعد مزید اقتصادی پابندیاں لگادیں۔ بھارتی وزیر خارجہ سبرامنیم جی شنکر نے ٹویٹ میں کہا کہ ابھی ایک بہت ہی نتیجہ خیز ایران مشترکہ کمیشن کے اجلاس کا اختتام ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے تعاون سے تمام منصوبے کا جائزہ لیا گیا اور اب ہمارے چاہ بہار منصوبے کو تیز کرنے پر اتفاق ہوا ہے۔

گزشتہ سال بھارتی وزیر خارجہ ایران میں دو روزہ دورے پر تھے۔ایران کے صدر حسن روحانی نے بھارتی وزیر خارجہ کے ہمراہ مشترکہ نیوز کانفرنس میں کہا کہ اس منصوبے سے خطے میں تجارت کو فروغ ملے گا۔

انہوں نے کہا کہ چاہ بہار- زاہدان ریلوے کو مکمل کرنا اور اسے ایران کی قومی ریلوے سے جوڑنے سے چاہ بہار بندرگاہ کا کلیدی کرار بن جائے گا حسن روحانی نے کہا کہ علاقائی تجارت میں انقلاب آسکتا ہے اور ایک مختصر راستے پر سامان نقل و حرکت میں مدد مل سکتی ہے۔

حسن روحانی نے کہا کہ علاقائی سلامتی کو برقرار رکھنا ایران اور بھارت کے لیے ایک اہم ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ موجودہ صورتحال میں جہاں امریکا یکطرفہ پابندیاں عائد کررہا ہے ہمیں دو طرفہ تعاون کو جاری رکھنے کی کوشش کرنی چاہیے۔

ایران میں بھارت کے سابق سفیر کے سی سنگھ نے کہا ہے کہ ایران کو بھارت کے ساتھ تعلقات بہتر رکھنے کی ضرورت ہے کے سی سنگھ نے یہ بھی کہا کہ ایران اور بھارت کے اسٹریٹیجک تعلقات مضبوط ہونے چاہیئں کیونکہ بحر ہند میں پاکستان کی بندرگاہ گوادر پر چین کے اثرو رسوخ کے باعث بھارت کے لیے پانی میں پہلے ہی جگہ تنگ ہو رہی ہے۔


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >