بھارت : حکومت کے کورونا وائرس کے ناقص انتظامات پر تنقید کرنے والے 50 صحافی گرفتار

 

کورونا وائرس کی بھارت میں موجودہ صورتحال خاص قابل قدر نہیں کیونکہ بھارت میں کورونا کے کیسز ابھی تک اسی تسلسل سے سامنے آ رہے ہیں تو اسی صورتحال پر آزاد صحافی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں جس کا بھارتی حکومت نے یہ حل نکالا ہے کہ ان صحافیوں کو گرفتار کر لیا جائے۔

بھارتی حکومت نے اپنے اوپر تنقید کرنے والے 50 کے قریب صحافیوں کو یا تو گرفتار کرا دیا ہے یا پھر ان کے خلاف مقدمات درج کرلیے گئے ہیں۔ بھارت میں حکومتی تسلط سے آزاد صحافیوں کی تعداد 1.35 بلین ہے ان میں زیادہ تر تعداد ہندوستانی شہریت کے حامل صحافیوں کی ہے۔

ہماچل پردیش میں ہندی روزنامہ کے ایک صحافی اوم شرما نے کہا بھارتی حکومت اس چیز میں دلچسپی نہیں رکھتی کہ صورتحال کس قدر خراب ہے بس ترجیح یہ ہے کہ ان کو آئینہ نہ دکھایا جائے۔ فیس بک پر ایک سٹیٹس لگانے والے صحافی کو بھی گرفتار کر لیا گیا جس نے نشاندہی کی تھی کہ لاک ڈاؤن کے دوران مزدور بغیر خوراک کے پھنسے ہوئے ہیں۔

صحافی اوم شرما کے مطابق ان پر سرکاری ملازم کے احکامات کی حکم ادولی کرنے پر مقدمہ درج کیا گیا اور الزام عائد کیا گیا کہ وہ کورونا پھیلانے کے مرتکب ہوئے ہیں۔

بھارت کے حالات تو یہ ہیں کہ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کہی جانے والے اس ملک میں حکومت کورونا وائرس کو قابو کرنے میں پوری طرح ناکام ہوئی ہے اور اب تک 1.58 ملین لوگ مہلک وائرس سے متاثر ہوئے ہیں جبکہ 38ہزار سے زائد لوگ کورونا وائرس سے ہلاک ہو چکے ہیں۔

برطانوی خبر ایجنسی کے مطابق لاک ڈاؤن کا اعلان کرنے کے بعد نریندر مودی نے سب سے پہلے بڑے میڈیا ہاؤسز اور پبلشرز کے ساتھ ویڈیو کانفرنس پر بات کی جس میں حکومتی نا اہلیوں پر پردہ ڈالنے کی تلقین کی گئی اور کورونا کے معاملے کو دبا کر رکھنےسے متعلق احکامات جاری کیے گئے۔

ایسی صورتحال میں گھروں سے نشریاتی اداروں کے لیے آزادنہ کام کرنے والے صحافیوں پر پابندیاں لگانا اور ان کی گرفتاریاں عمل میں لانا آزادی اظہار رائے پر قدغن ہے جس کے لیے کسی بھی معاشرے میں کوئی جگہ نہیں۔

بھارتی حکومت نے حقیقی معاملات پر طوطا چشمی کے لیے صحافیوں کو دبانے اور دباؤ کے ذریعے چپ کرانے کو ہی بااثر حکمت عملی سمجھ رکھا ہے اسی لیے رواں سال 11اپریل کو بھی مقبوضہ کشمیر کے ایک صحافی مشتاق احمد گنائی کو لاک ڈاؤن کے دوران رپورٹنگ کرنے پر گرفتار کر لیا گیا تھا۔

48 گھنٹے حراست میں رکھنے کے بعد مشتاق نامی اس صحافی کو رہا کیا گیا مگر ان کا کہنا تھا کہ رہا کرنے سے پہلے ان کی گاڑی سے پریس کا سٹیکر بھی اتار دیا گیا ان کا کہنا تھا کہ اس دوران تشدد بھی کیا گیا مگر اب اس نہج پر پہنچ کر پیچھے ہٹنا کشمیر کے حق میں بہتر فیصلہ نہیں ہو سکتا۔


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >