میگھن مارکل نے اخبار کے خلاف مقدمے میں شکست تسلیم کرلی، ڈیڑھ کروڑ بھی ادا کر دیے

برطانوی شاہی خاندان کے چھوٹے چشم و چراغ جنہوں نے رواں برس اپنی شاہی حیثیت سے دستبرداری کا اعلان کیا تھا ان کی اہلیہ نے ایک اخبار کے خلاف اپنے ہی دائر کردہ مقدمے کی ابتدائی سماعت میں شکست تسلیم کرلی اور مخالف فریق کو ڈیڑھ کروڑ روپے بھی ادا کردیے۔

تفصیلات کے مطابق میگھن مارکل نے اکتوبر2019 میں برطانوی اخبار دی میل اور ان کی ذیلی ویب سائٹ دی میل آن سنڈے کے خلاف ایک مقدمہ دائر کیا جس میں انہوں نے موقف اپنایا کہ اخبار نے ان کی جانب سے 2018 میں اپنے والد کو لکھے گئے ایک خط کو غلط انداز میں پیش کیا ، مذکورہ خط جعلی ہے انہوں نے ایسا کوئی خط اپنے والد کو نہیں لکھا ہے۔

کیس کی سماعت کا آغاز اپریل 2020 میں ہوا تاہم ابتدائی سماعتوں میں ہی عدالت نے میگھن مارکل کے موقف سے اختلاف کیا اور دوسری سماعت میں ہی عدالت نے اخبار کے وکلاء کے دلائل سےا تفاق کرتے ہوئے میگھن کے دعوؤں کو کمزور قرا ر دیا۔

برطانوی میڈیا کے مطابق ابتدائی سماعتوں کے دوران ہی عدالت کا میگھن کے موقف سے اختلاف کرنا اور اخبار کے وکلاء کے دلائل سے اتفاق اصل میں میگھن کی شکست ہے، بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق اخبار کے وکلاء یہی دلائل آگے لے کرجائیں گے اور کیس کی نوعیت آگے چل کر بھی تبدیل نہیں ہوگی۔

گزشتہ سماعت میں اخبار کے وکلاء نے میگھن کے دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ میگھن ان دعوؤں کی بنیاد پر اپنے نجی معاملات کو خبروں کی زینت بنانا چاہتی ہیں، اسی سماعت میں عدالت کے میگھن کے دعوؤں کے مخالف ریمارکس پر میگھن نے اپنی شکست تسلیم کرتے ہوئے اخبار کو مقدمے کے دوران آنے والے اخراجات کی مد میں 68 ہزار پاؤنڈ کی رقم ادا کردی۔

دی گارجین کے مطابق اس سماعت کے بعد اگلی سماعت کے دوران دونوں فریقوں کی جانب سے ایک صلح نامہ جمع کروایا گیا جس میں میگھن مارکل نے اپنی شکست تسلیم کرتے ہوئے مخالف فریق کو ادا کیے گئے اخراجات کی تفصیلات بھی درج کی ہیں، مذکورہ کیس کا باضابطہ ٹرائل اگلے سال شروع ہونے کا امکان ہے اگر میگھن کے دعوؤں کے خلاف یوں ہی عدالتی ریمارکس آتے رہے تو میگھن کو مزید لاکھوں پاؤنڈ اخبار کو ادا کرنے پڑسکتے ہیں۔


Featured Content⭐


24 گھنٹوں کے دوران 🔥


From Our Blogs in last 24 hours 🔥


>