بیروت میں خوفناک دھماکوں کے بعد اگلی صبح

بیروت کی بندرگاہ پر گودام سمندر برد،صبح کا آغاز تباہی کے ساتھ، 100افراد جاں بحق

لبنان کا دارالحکومت بیروت دیکھتے دیکھتے ملبے کا ڈھیر بن گیا، ہنستا بستا شہر اجڑ گیا،عمارتیں زمین بوس ہوگئیں، ملبے کا ڈھیر لگا ہے، ہر طرف تباہی کے مناظر ہیں، دھوئیں کے بادل اب بھی بلند ہے، بندرہ گاہ پر جس گودام میں دھماکے ہوئے اور آگ لگی وہ سمندر برد ہوگیا،

اب بھی دھواں اٹھ رہا ہے،دھماکا اتنا شدید تھا کہ اس نے نہ صرف بندرگاہ کے نواحی علاقے کو تباہ کیا بلکہ دس کلومیٹر دور تک اس کے اثرات محسوس کیے گئے،جہاں سے بھی گزر یں وہاں شیشے اور تباہ شدہ عمارتوں کا ملبہ ہے،شہر کا نقشہ ہی بدل گیا ہے، بیروت میں آج صبح کا آغاز ہوا سوگ کے ساتھ ۔

گزشتہ شام ہونے والے دھماکے کے بعد آج صبح بیروت میں دکھ، افسوس اور تباہی ہے، گاڑیاں تباہ ہوگئیں،اپنے پیاروں کو کھونے کا غم ہے،عوام اب بھی اس اچانک آنے والی آفت پر صدمے میں ہیں۔ کہتے ہیں ہر اسپتال گئے، ہر جگہ گئے کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا۔

بیروت میں موجود بی بی سی کے نمائندے رامی روہیان نے کہا کہ میرے اپنے تجربے کے لحاظ سے کہا جائے تو یہ کسی زلزلے سے کم نہیں تھا، یہ بیروت کیلئے بدترین وقت ہے، بندگاہ کے قریب آفس اور گھروں کا انفرااسٹرکچر مکمل تباہ ہوچکا ہے، میں اب تک کسی بھی ایک گھر میں نہیں جاسکا لیکن قریبی دوست اور دیگر افراد جو دھماکے کے وقت موجود تھے کہتے ہیں سب تباہ ہوچکا ہے۔

بیروت دھماکے کے بعد ملک بھر میں سرکاری طور پر تین روزہ سوگ کا اعلان کردیا گیا، لبنان کے صدر نے بتایا کہ 2700 ٹن ایمونیم نائٹریٹ بندرگاہ کے قریب ایک گودام میں گذشتہ چھ سال سے پڑا ہوا تھا، لبنای صدر نے آج کابینہ کا اجلاس طلب کرلیا، کہا ملک میں دو ہفتے کی ایمرجنسی نافذ کی جائے گی،صدر عون نے مزید کہا کہ ان کی حکومت ہنگامی حالات سے نمٹنے کے لیے ساڑھے چھ کروڑ ڈالر جاری کر رہی ہے جو کہ مقامی کرنسی کے مطابق 100 بلین لیرا ہے،دھماکے سے بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی ہے،چار ہزار سے زائد افراد زخمی ہیں،

بین الاقوامی برادری کی جانب سے لبنان میں ہونے والے دھماکے پر تشویش اور افسوس کا اظہار کیا گیا،جانی اور مالی نقصان پر لبنانی حکومت اور عوام سے اظہار افسوس کیا گیا،اقوام متحدہ امریکہ، جرمنی، اسرائیل اور ایران کے حکام نے اپنے پیغام میں مدد کی پیشکش بھی کی، برطانوی وزیراعظم بورس جانسن نے اظہار افسوس کرتے ہوئے تعاون کی پیش کردی۔

بیروت میں ہونے والے دھماکوں میں ایک آسٹریلوی شہری بھی ہلاک ہوا، آسٹریلیا کے وزیراعظم نے تصدیق کردی۔۔ دھماکوں کی مذمت کرتے ہوئے لبنان حکومت کے ساتھ تعاون کی پیشکش کردی۔۔ کہا مشکل وقت میں لبنان کے ساتھ ہیں۔


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >