ٹک ٹاک کے معاملے پر امریکہ کی چوری چین قبول نہیں کرے گا، چینی سرکاری میڈیا

چین کے سرکارے اخبار چائنہ ڈیلی کے مطابق بیجنگ اپنے ملک کی ٹیکنالوجی کمپنی کی امریکی چوری کو قبول نہیں کرے گا، اخبار کے مطابق اگر واشنگٹن کی جانب سے دباؤ ڈالا جاتا ہے تو جواب دینے کے لیے چین کے پاس طریقے بھی موجود ہیں۔

یاد رہے کہ امریکہ کی جانب سے چینی ٹیکنالوجی کمپنی بائٹ ڈانس پر اس کی معروف ایپ ٹک ٹاک کو فروخت کرنے کے لیے دباؤ ڈالا جا رہا ہے۔

چائنہ ڈیلی نے اپنے ایڈیٹوریل میں انکشاف کیا کہ ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے بائٹ ڈانس پر ٹک ٹاک کے امریکی آپریشنز کو مائیکرو سافٹ کو بیچنے کے لیے دباؤ ڈالا جا رہا ہے۔ اخبار نے لکھا کہ اگر چین میں موجود امریکی کمپنیوں پر اسی طرح سے دباؤ ڈالا جائے تو چین کے پاس جواب دینے کے لیے طریقے موجود ہیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے چینی کمپنی کو کسی معاہدے پر پہنچنے کے لیے 45 روز کی مہلت دیے جانے کے بعد مائیکروسافٹ نے پیر کے روز اپنے بیان میں کہا تھا کہ وہ ٹک ٹاک کے کچھ حصے خریدنے کے لیے بائٹ ڈانس کے ساتھ بات چیت کر رہی ہے۔

امریکی صدر ٹرمپ نے دھمکی دی تھی کہ وہ مائیکروسافٹ کے ساتھ معاہدہ ہونے یا نہ ہونے، دونوں صورتوں میں قومی سلامتی کی بنیادوں پر ٹک ٹاک پر 15 ستمبر کو امریکہ میں پابندی عائد کر دیں گے۔

چینی وزارت خارجہ کے ترجمان وانگ وین بِن نے ٹک ٹاک کے معاملے پر امریکا پر ‘غنڈہ گردی’ کرنے کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ ٹرمپ انتظامیہ اس معاہدے سے مالی فائدہ حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ یہ کاروباری معیشت کے اصولوں اور عالمی تجارتی تنظیم (ڈبلیو ٹی او) کی کاروباری آزادی، شفافیت اور غیر امتیازی سلوک کے اصولوں کے خلاف اور کھلم کھلا غنڈہ گردی ہے۔

ٹک ٹاک کے خلاف امریکا میں قومی سلامتی کی بنیاد پر باضابطہ تحقیقات کی جارہی ہیں، کیونکہ اس پر امریکی شہریوں کا بڑے پیمانے پر ذاتی ڈیٹا جمع کرنے اور بیجنگ کے مطالبے پر یہ ڈیٹا انتظامیہ سے شیئر کرنے کے لیے قانونی طور پر پابند ہونے کا الزام ہے۔

چینی وزارت خارجہ کے ترجمان نے پریس بریفنگ کے دوران کہا کہ امریکا کوئی ثبوت فراہم کیے بغیر قومی سلامتی کے معاملے کا غلط استعمال کر رہا ہے اور غیر منصفانہ طور پر مخصوص غیر امریکی کمپنیوں کو دبا رہا ہے۔


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >