ٹک ٹاک اور وی چیٹ پر ٹرمپ نے ایگزیکٹو آرڈر جاری کر دیا

امریکی صدر نے چینی کمپنیوں کی جانب سے 45 روز میں ٹک ٹاک اور وی چیٹ فروخت نہ کرنے کی صورت میں پابندی کا حکم نامہ جاری کر دیا

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ روز ایگزیکٹو آرڈر جاری کر دیا جس کے مطابق اگر چینی کمپنیاں 45 روز میں ٹک ٹاک اور وی چیٹ کا امریکہ میں آپریٹنگ سسٹم امریکی کمپنی کو فروخت نہیں کرتیں تو ان پر 45 روز میں پابندی عائد کر دی جائے۔

امریکی صدر کی جانب سے جاری کردہ حکم نامے کے مطابق 45 روز کے بعد امریکہ میں موجود کوئی شخص یا کمپنی چینی کمپنی ڈانس بائٹ لمیٹڈ کے ساتھ کوئی ٹرانزیکشن یا اثاثوں کے تبادلے جیسا کوئی عمل نہیں کر سکے گی۔

امریکی صدر کے اس اقدام سے ایپ کی ممکنہ فروخت کے لیے کمپنی پر دباؤ بڑھ جائے گا اور یہ فیصلہ ایسے وقت میں کیا گیا جب ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے یہ بات بھی سامنے آ چکی تھی جب انہوں نے گزشتہ جمعہ اس خیال کا اظہار کیا تھا کہ اگر چینی کمپنی ٹک ٹاک کی فروخت پر نہ مانی تو اس کام کے لیے وہ ایگزیکٹو آرڈر جاری کر کے امریکہ میں کام کرنے پر پابندی لگائیں گے۔

مائیکرو سافٹ کے مطابق سی ای او ستیا نیڈیلا اور امریکی صدر کے درمیان ٹک ٹاک کی خریداری کے حوالے سے بات چیت کی گئی تھی جس میں ٹرمپ نے ایپ کی خریداری کے لیے 15 ستمبر تک امریکی خریدار ڈھونڈنے کی ڈیڈلائن دی تھی۔

جمعرات کے روز ٹک ٹاک پر امریکی شہریوں کی لوکیشن، سرچ ہسٹری اور انٹرنیٹ پر ویب سرفنگ جیسی معلومات چرانے کا الزام لگا تھا جس میں کہا گیا کہ کمپنی کسی بھی وقت یہ انفارمیشن چینی حکمران جماعت کمیونسٹ پارٹی کو دینے کی پابند ہے۔

امریکی صدر نے ٹک ٹاک کے ساتھ ہی چینی کمپنی ٹین سینٹ کی ملکیتی وی چیٹ پر پابندی کے لیے بھی حکم نامہ جاری کر دیا۔

ٹک ٹاک کے غیر یقینی مستقبل کے حوالے سے پریشان صارفین نے جمعہ کے روز کمپنی کے حق میں لائیو سٹریمنگ شروع کی جبکہ کچھ صارفین ایپ کی بندش کی صورت میں متبادل ذرائع کی تلاش سے متعلق بھی گفتگو کرتے رہے۔

کمپنی کے ترجمان جوش گارٹنر نے ایک بیان میں کہا ، ٹک ٹاک کو 100 ملین امریکی پسند ہیں کیونکہ وہ تفریح ​​،آزاد اظہار خیال اور روابط کا گڑھ بن چکا ہے اور ٹک ٹاک آنے والے کئی سالوں تک یہاں موجود رہے گا۔

یہ سب سلسلہ تب شروع ہوا جب امریکی صدر کی اوکلاہاما کے شہر تلسا میں ہونے والی ریلی کی مخالفت میں ٹک ٹاک پر مہم چلائی جا رہی تھی جس میں لوگوں کو اس میں شرکت کرنے سے روکا جا رہا تھا۔


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >