بیروت دھماکوں کی وجہ بیرونی میزائل یا بم حملہ بھی ہوسکتا ہے,لبنانی صدر

 

لبنان دارالحکومت بیروت میں دھماکوں کی وجوہات کیلئے تحقیقات جاری ہیں,لبنان کے صدر مشیل عون کا اس حوالےسے کہنا ہے کہ بیروت دھماکوں کی وجہ غفلت بیرونی مداخلت ہوسکتی ہے یا یہ بیرونی بم یا میزائل حملہ ہوسکتا ہے۔دونوں صورتوں میں بین الاقوامی تفتیش کی ضرورت نہیں ہے,جبکہ ملکی اور غیر ملکی اس معاملے میں بین الاقوامی تحقیقات کا مطالبہ کررہے ہیں.

صحافیوں سے گفتگو کے دوران صدر مشیل عون نے کہا کہ خوفناک دھماکوں کی وجہ لا پرواہی یا بیرونی میزائل حملہ ہوسکتے ہیں۔ اس حوالے سے حکومت کی جانب سے تحقیقات کی جارہی ہیں جس میں نہ تو اعلیٰ عہدیداروں کو چھوڑا جائے گا اور نہ ہی نچلے درجے کے ملازمین کو بخشا جائے گا۔

لبنانی صدر نے بیروت تباہی کی عالمی تحقیقات کے مطالبے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اس مطالبے کا مقصد سچ کو دھندلانا ہے، عالمی تحقیقات میں سچ دب جائے گا۔

لبنانی صدر نے تصدیق کی کہ اب تک اس حوالے سے 20 مشتبہ افراد سے تفتیش کی جا چکی ہے۔
حزب اللہ کے چیف حسن نصراللہ نے ان دعووں کو سختی سے مسترد کیا ہے جس میں کہا جا رہا ہے کہ ان کی تنظیم  نے دھماکوں کے مقام پر اسلحہ ذخیرہ کیا ہوا تھا۔

اس سے قبل لبنانی حکام نے یہ خدشہ ظاہر کیا تھا کہ بیروت میں ہونے والے دھماکوں کی وجہ وہ امونیم نائٹریٹ ہوسکتا ہے جو ایک گودام میں رکھا گیا تھا,ایسا پہلی بار ہے کہ کسی اعلیٰ عہدیدار نے بیرونی حملے کا خدشہ ظاہر کیا ہے,جب کہ لبنانی شہری دھماکوں کی وجوہات جاننا چاہتے ہیں۔

بیروت میں چار اگست کو ہونے والے  دھماکے میں150 سے زائد افراد جاں بحق اور پانچ  ہزار سے زائد زخمی ہوئے ہیں


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >