لداخ میں جما دینے والی سردی سے بھارتی فوجی ٹھٹھرنے لگے

گزشتہ 3 ماہ سے زیادہ کا عرصہ گزر چکا ہے جب سے بھارت اور چین کی فوجیں مختلف مقامات پر آمنے سامنے ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات جاری ہیں مگر لداخ کا سرد موسم بھارتی فوجیوں کیلئے کڑا امتحان بن گیا ہے۔

مزید فوج کی تعیناتی اور آنے والے دنوں کی تیاریوں سے بھارتی فوج زبردست دباوٴ میں ہے۔

بھارتی فوج کے سابق ڈپٹی چیف لیفٹیننٹ جنرل ایس کے پتیال لیہ میں واقع 14ویں کور کے کمانڈر رہ چکے ہیں، پتیال کا کہنا ہے کہ ’لداخ میں خطرناک سردی ہوتی ہے۔ درجہ حرارت منفی 40 سینٹی گریڈ تک چلا جاتا ہے اور 40فٹ تک برف بھی جم جاتی ہے۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ ایسے حالات میں گشت کرنا بھی مشکل ہو جاتا ہے۔

بھارتی فوج کے ایک اہلکار نے بتایا کہ فوج نے فیصلہ کیا ہے کے اپنی موجودگی کو مضبوط کرنے کے لیے اس علاقے میں بھیجے جانے والے سکیورٹی اہلکار فی الحال واپس نہیں بلائے جائیں گے۔

ریٹائرڈ لیفٹنینٹ جنرل ڈی ایس ہوڈا نے بتایا کہ اتنی بڑی سطح پر اشیا بھیجے جانے کا اتنا بڑا آپریشن نہ صرف موجودہ فوجیوں کی بلکہ یہاں بھیجے جانے والے مزید فوجیوں کی بھی مدد کرے گا۔

ایسا آپریشن شمالی لداخ میں اس سے قبل نہیں ہوا۔ اور یہی بات اسے غیر معمولی بناتی ہے۔ اب فوجی دستے اس علاقے میں سردیوں میں بھی رہیں گے اور اس سے موجودہ حالات کی سنجیدگی کا بھی پتہ چلتا ہے۔

ان مشکل موسمی حالات پر انڈین فوجیوں نے ایک ویڈیو میں بھی اپنی مشکلات بتائی ہیں


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >