اگر امریکہ وی چیٹ پر بھی پابندی لگائے تو کیا نتیجہ نکلے گا؟

آج کل کے ٹیکنالوجی کے اس جدید دور میں کسی کمپنی پر محض اس لیے پابندی عائد کر دینا کہ اس کا مقابلہ نہ کر سکنے کی سکت ہو اور اس کے لیے سیاسی عناد کو بنیاد بنا کر سنگین الزامات لگانا جیسا کے ٹک ٹاک پر الزام لگایا گیا کہ اس کی جانب سے امریکی صارفین کا ڈیٹا لیک ہونے کا خدشہ ہے۔
آج کے دور میں یہ بہت عجیب بات لگتی ہے۔

حال میں میں امریکی صدر کی جانب سے دو چینی ایپس پر امریکہ میں پابندی کا یا امریکی کمپنی کو بیچنے کا ارادہ ظاہر کیا ہے یہ سمجھنا مشکل ہے کہ آخر امریکہ اس طرح کی باتیں کیوں کر رہا ہے۔

چینی ایپ وی چیٹ جو کہ سب سے زیادہ استعمال کی جانے والی موبائل ایپلی کیشن سمجھی جاتی ہے جس میں رقوم کی ادائیگیوں اور سوشل روابط کے ساتھ ساتھ متعدد فیچرز شامل ہیں۔ اس پر بھی امریکہ میں پابندی کی باز گشت چل رہی ہے۔

دوسری جانب امریکی صدر نے ٹک ٹاک کے معاملے پر ایگزیکٹو آرڈر جاری کر دیا ہے جس کے تحت 30 ستمبر تک یہ ایپ یا تو چینی کمپنی کسی امریکی کمپنی کو فروخت کرے گی ورنہ اس کے آپریشن کو امریکہ میں بند کر دیا جائے گا۔

ماہرین کے مطابق خیال کیا جا رہا ہے کہ اگر اس طرح کی پابندی لگائی گئی تو اس سے سب سے زیادہ ایپل کمپنی متاثر ہوگی۔ کیونکہ آئی فون پر وی چیٹ کے 1.2بلین صارفین ماہانہ کی بنیاد پر موجود ہیں.

ایک اندازے کے مطابق ایپ سٹور سے اگر یہ ایپ ہٹائی جاتی ہے تو اس کے ایپل کمپنی پر تباہ کن اثرات مرتب ہوں گے۔ جو کہ اس کمپنی کے فون کی فروخت پر30 فیصد تک کمی کی صورت میں بھی ہو سکتے ہیں۔ عالمی سطح پر آئی فون کی برآمد پر 25 سے 30 فیصد تک کمی دیکھنے میں آ سکتی ہے۔

  • ایپل کمپنی چپ کیوں ہے عدالت میں جاکر سٹے آرڈر لے سکتی ہے؟
    یہ تو درست ہے کہ انڈیا اور امریکہ میں چین کا مقابلہ کرنے کی سکت نہیں ہے اسی لئے چولیں مار رہے ہیں، چین نے اپنی پیداوار کے ساتھ ساتھ انترنیشنل مارکیٹس میں سپلای حاصل کی ہے اور اس میں بہت ساری باتیں ہوتی ہیں، ریٹس اور معیار بھی ہیں اور ٹیکس معاملات بھی
    انڈیا اور امریکہ مل کر جس انداز سے چین کو ہرانا چاہتے ہیں اس کو ہم اپنی زبان میں چوت چالاکیاں کہتے ہیں یعنی کوی مردوں کی طرح نہیں چوتیوں کی طرح مقابلہ کی ٹھانے


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >