بیروت میں دھماکہ امونیم نائٹریٹ نہیں بلکہ کسی اور وجہ سے ہوا، اطالوی ماہر

لبنانی دارالحکومت بیروت میں دھماکہ امونیم نائٹریٹ نہیں بلکہ کسی اور وجہ سے ہوا، اطالوی ماہر

4 اگست کو لبنان کے دارالحکومت بیروت میں ہونے والے دھماکوں کے نتیجے میں 160 افراد ہلاک جب کہ 6 ہزار سے زائد زخمی ہوئے۔ ابتدائی طور پر دھماکوں کی وجہ امونیم نائٹریٹ بتائی گئی اور کہا گیا کہ بیروت کی بندرگاہ پر امونیم نائٹریٹ کا ذخیرہ موجود تھا۔ لبنانی حکام نے کہا تھا کہ امونیم نائٹریٹ کے ساتھ آتشبازی کا مواد ہونے کی وجہ سے دھماکہ ہوا۔

  

اس حوالے سے اٹلی کے 46 سالہ دھماکہ خیز مواد کے ماہر ڈانیلو کوپ نے انکشاف کیا ہے کہ بیروت دھماکوں کی اصل وجہ امونیم نائٹریٹ نہیں بلکہ فوجی میزائل ہو سکتے ہیں۔

اطالوی ماہر ڈانیلو کوپ نے اطالوی اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میں سمجھتا ہوں کہ لبنانی بندرگاہ پر دھماکے کے وقت وہاں جنگی ہتھیار اور گولہ بارود موجود تھا، اس کی تصدیق اس بات سے ہوتی ہے کہ دھماکے کے بعد وہاں سے دھوئیں کے نارنجی بادل اٹھے تھے۔

ڈانیلو کوپ نے کہا کہ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ امونیم نائٹریٹ مواد کو دھماکے سے اڑانے کے لیے کوئی عوامل ہونا چاہیے تھے بصورت دیگر یہ سب کچھ ایک ساتھ کیسے پھٹ گیا؟

اطالوی ماہر نے واضح کیا کہ امونیم نائٹریٹ کے دھماکے کے وقت زرد بادل بنتا ہے تاہم بارود کی بندرگاہ کے دھماکے میں ظاہر ہونے والا وسیع بادل سرخی مائل نارنجی رنگ کا تھا، یہ رنگ روایتی طور پر لیتھیم کا پتہ دیتا ہے جو میزائلوں کی تیاری میں ایک بنیادی عنصر شمار کیا جاتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ بیروت میں جو کچھ ہوا وہ بندرگاہ میں ہتھیاروں کے عارضی ذخیرے سے تعلق رکھتا ہے، میرے خیال میں پہلے درمیانے حجم کا ایک دھماکہ ہوا جس کے سبب گولہ بارود کے ڈپو میں آگ بھڑک اٹھی۔ جس کے بعد دھماکے کے بعد وہاں سے دھوئیں کے نارنجی بادل اٹھے تھے۔


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >