کورونا وبا کے دوران 7 لاکھ 30 ہزار برطانوی شہری بے روزگار ہوئے، دی گارڈین

برطانوی خبر رساں ادارے دی گارڈین کے مطابق کورونا کی عالمی وبا کے دوران برطانیہ میں مسلسل چوتھے مہینے ملازمتوں میں کمی آئی تاہم اب ملازمت سے محروم ہونے والے افراد کی شرح کچھ سست ہوئی ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق مارچ میں عالمی وبا کورونا وائرس کے آغاز سے لے کر جولائی تک 10 لاکھ ملازمین میں سے 7 لاکھ سے زائد افراد ملازمتوں سے محروم ہو گئے۔

کورونا وائرس کے باعث ایمپلائرز شدید مشکلات کا شکار ہوئے جس سے مارچ سے جولائی کے درمیان 7 لاکھ 30 ہزار ورکرز ملازمتوں سے محروم ہوئے جن میں صرف جون سے لے کر اب تک ملازمتوں سے محروم ہونے والوں کی تعداد 81 ہزار ہے۔

اس عرصے کے دوران تنخواہوں کی سطح میں بھی کمی دیکھی گئی جس میں بونس میں 1.2 فیصد اور تنخواہ میں اعشاریہ 2 فیصد کمی شامل ہےاور ایسا 2001 میں اس حوالے سے ریکارڈ مرتب کیے جانے کے بعد پہلی مرتبہ ہوا ہے۔

برطانوی ادارہ برائے شماریات کے مطابق زیرو آور کنٹریکٹس میں سب سے زیادہ اضافہ ریکارڈ کیا گیا جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ملازمتوں میں کمی سے نوجوان افراد بدترین متاثر ہوئے اور دیگر ملازمین کو گھنٹوں کی کمی کا سامنا بھی کرنا پڑ سکتا ہے۔

برطانوی ادارہ برائے شماریات کے مطابق زیرو آور کنٹریکٹس پر موجود افراد کی تعداد میں 17.04 فیصد اضافہ ہوا ہے جو بڑھ کر ایک لاکھ 56 ہزار ہوگئی ہے۔ ملازمتوں میں کمی سے 18 سے 24 برس اور 65 برس سے زائد عمر کے افراد سب سے زیادہ متاثر ہوئے۔

برطانیہ کے ادارہ شماریات کی جانب سے بدھ کو اس اعلان کی توقع ہے کہ دوسری سہ ماہی معیشت میں 21 فیصد کمی کے بعد برطانوی معیشت کساد بازاری کا شکار ہے۔ برطانیہ میں کورونا وائرس سے 3 لاکھ سے زائد افراد متاثر ہیں جبکہ 46 ہزار سے زائد ہلاک ہوچکے ہیں۔


Featured Content⭐


24 گھنٹوں کے دوران 🔥


From Our Blogs in last 24 hours 🔥


>