بھارت: فیس بک پر گستاخانہ پوسٹ کے خلاف مظاہرے، پولیس کی فائرنگ ، 3 جاں بحق

عالمی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق بھارت کی ریاست بنگلور میں کانگریس رہنما کے رشتے دار کی فیس بک پر گستاخانہ پوسٹ کے خلاف پولیس کے ایکشن نہ لینے پر مظاہرے پھوٹ پڑے، مظاہرین نے پولیس سٹیشن کا گھیراؤ کرتے ہوئے پولیس سٹیشن کے باہر کھڑی گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں کو آگ لگا دی۔

اس حساس معاملے پر غیرجانبدارانہ رویہ اختیار کرتے ہوئے بنگلور پولیس نے کانگریس  رہنما کے رشتے دار کے خلاف ایکشن لینے کی بجائے پولیس سٹیشن کے باہر جمع مشتعل مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے ان پر سیدھے فائر کھول دیے، پولیس کی مظاہرین پر فائرنگ کے نتیجے میں تین افراد جاں بحق ہوگئے۔

پولیس سٹیشن کا گھیراؤ کرنے سے قبل مظاہرین نے فیس بک پر گستاخانہ پوسٹ کرنے والے کانگریس کے مقامی رہنما کے رشتے دار نوین کی گرفتاری کا مطالبہ ایم ایل اے کے گھر کے باہر شدید احتجاج کرتے ہوئے کیا۔

پولیس نے غیر جانبدارانہ رویے کا مظاہرہ کرتے ہوئے فیس بک پر گستاخانہ پوسٹ کرنے والے کی گرفتاری کا مطالبہ کرنے والے مظاہرین کے خلاف کریک ڈاؤن کرتے ہوئے 100 سے زائد افراد کو حراست میں لے لیا۔ بعد ازاں پولیس نے پیدا شدہ کشیدہ حالات کو دیکھتے ہوئے فیس بک پر متنازع اور گستاخانہ پوسٹ کرنے والے کی گرفتاری کا دعوی کیا۔

دوسری جانب کانگریس کے مقامی رہنما ایم ایل اے کی جانب سے ایک ویڈیو پیغام جاری کیا گیا، جس میں انہوں نے مسلمانوں کو یقین دلایا کہ ذمہ دار کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے اسے قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا، اسی تناظر میں کرناٹک سے امیر شریعت مولانا صغیر احمد نے شہریوں سے قانون کی خلاف ورزی نہ کرنے اور پرامن رہنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ ذمہ دار کے خلاف غیر جانبدارانہ کارروائی کرتے ہوئے اسے قانون کے مطابق سخت سے سخت سزا دی جائے گی۔


Featured Content⭐


24 گھنٹوں کے دوران 🔥


From Our Blogs in last 24 hours 🔥


>