یو اے ای اور اسرائیل کے درمیان سفارتی تعلقات قائم ،ہمیں بھی اب سوچنا چاہیے- کامران خان

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے درمیان تعلقات کو معمول پر لانے کیلئے اتفاق ہوگیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو اور متحدہ عرب امارات کے ولی عہد محمد النہیان کی جانب سے مشترکہ طور پر ایک بیان جاری کیا گیا ہے جس میں امید کا اظہار کیا گیا ہے کہ” تاریخی پیش رفت ہوئی ہے جس کے نتیجے میں مشرق وسطی میں امن کی جانب بڑھا جاسکے گا”۔

متحدہ عرب امارات کے امریکہ میں سفیر یوسف الاتابیہ کا کہنا ہے کہ اسرائیل کے ساتھ معاہدہ خطے کے مفاد میں ہماری سفارتی جیت ہے۔

اس معاہدے کے نتیجے میں اسرائیل مقبوضہ ویسٹ بینک میں اپنے متنازعہ منصوبوں کو منسوخ کردے گا۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے ایک ٹویٹر پیغام میں کہا کہ ” آج ایک تاریخی پیش رفت ہوئی ہے ، ہمارے 2 عظیم دوست ممالک اسرائیل اور متحدہ عرب امارات کے درمیان تاریخی امن معاہدہ طے پایا گیا ہے”۔

ڈونلڈ ٹرمپ کی اس ٹویٹ کو ری ٹویٹ کرتے ہوئے اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے لکھا "تاریخی دن”۔

اس سے قبل اپنے ایک ٹی وی خطاب میں نیتن یاہو نے اعلان کیا کہ ہم ویسٹ بینک منصوبوں کو منسوخ کررہے ہیں، مگر یہ تمام منصوبے ختم نہیں ہورہے یہ ٹیبل پر موجود رہیں گے، ان منصوبوں کے بعد ویسٹ بینک کے کچھ حصے باقاعدہ طور پر اسرائیل کا حصہ بن جائیں گے۔

انہوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ” امریکہ کے ساتھ مل کر اسرائیلی سلامتی کے میرے منصوبوں میں کسی قسم کی کوئی تبدیلی نہیں ہے، میں اس کیلئے پرعزم ہوں، میں آپ کو یاد دلانا چاہتا ہوں کہ میں وہ واحد شخص ہوں جو ویسٹ بینک کے معاملے کو زیر بحث لایا، اب یہ معاملہ زیر بحث ضرور رہے گا”۔

یاد رہے کہ اس سے قبل اسرائیل کا کسی گلف عرب ملک کے ساتھ کوئی سفارقی تعلق نہیں تھا، تاہم ایران کے مذہبی اثر کے خلاف ان ممالک کے مشترکہ مفادات نے ان کے درمیان غیر رسمی روابط کی راہ ہموار کردی جس کے بعد آج  اسرائیل اور متحدہ عرب امارات کے درمیان یہ معاہدہ طے پاگیا ہے۔

معاہدے پر تجزیہ دیتے ہوئے سینئر صحافی کامران خان کا کہنا تھا کہ "متحدہ عرب امارات کی جانب سے پہلے کے دشمن اسرائیل کو بحیثیت ایک ملک تسلیم کرکے اس کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کرنا ایک بہت تاریخی پیش رفت ہے، یہ پاکستان کیلئے ایک بہت بڑا سبق ہے کیونکہ پاکستان اپنی خارجہ پالیسیوں کی سمت کو عرب ممالک کے مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے منتخب کرتا ہے، سوچنے کا وقت ہے”۔

  • ھم کو ضرورت نہیں ھیں ھمارے ساتھ اللہ تعالٰی ھے۔ اس بغیرت کامران کو پاکستان سے باہر پھینک دو۔ اسکو شرم بھی نہیں آتا۔

  • If Arabs are accepting Israel we should not have any problem. Peace be upon him Prophet Mohammad (SAW) when he went Medina . Jews and the Christians were the one who wellcome him.
    Lets see if Saudi Arabia accepts Israel we should definitely do so. No-questions asked. Will 100 time better for Pakistan.

  • Not surprised at all
    ہر چیز اپنے اصل کی طرف لوٹتی ہے
    یہ اماراتی حکمران اور اہل سعود کا
    اصل دھرم یہی ہے
    جس کی جانب پلٹ آۓ ہیں

  • قرآن کریم میں ارشاد ہے:
    یٰاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّخِذُوا الْیَھُوْدَ وَالنَّصَارٰی اَوْلِیَاء
    یعنی قرآن کا فرمان کہ اے ایمان والو یہود و نصاریٰ کو اپنا دوست نہ بناؤ۔

  • شرم آنی چاھیئے کامران آپکو ڈالر نے آپکی قیمت بھی لگا دی پاکستان میں عرصہ سے ایک گروپ کوشش میں ہے کہ اسرایئل کو تسلیم کیا جائے پر عوام پاکستان کے خوف سے ناپاک ارادء حسرت بن کر ان کی قبروں کو جلایئں گے… ہم نے پاکستان اسلام کے نام پر بنایا ہے اور مظلوم چاھے کسی مذھب کا ہو کی مدد ہمرا اولین فریضہ ہے

  • یہ کامران جیسے آستین کے سانپ ہی
    مسلم ممالک میں یہودیوں کے ایجنٹ ہیں ۔۔۔ یہ کہتا ہے نامی گرامی ممالک اسرائیل کے دوست بن گئے ہیں ۔۔۔اس کو کہو نامی گرامی اگر حرامی بن گئے ہیں تو ہم بھی بن جائیں کیا؟؟؟
    کاش ایسے بے دین سیکولر اینکر کبھی قرآن پاک بھی کھول کر دیکھ لیں
    قرآن کریم میں ارشاد ہے
    یٰاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّخِذُوا الْیَھُوْدَ وَالنَّصَارٰی اَوْلِیَاء
    یعنی قرآن کا فرمان کہ اے ایمان والو یہود و نصاریٰ کو اپنا دوست نہ بناؤ

  • Arabs ka matalb Musalman hona nahein hey , Arabs to kabhi muslim thy hi nahin …… Sarey Arab hukmraan chor or dakoo background se hein .Allah ke hukam ke khilaf lia huwa qadam is dunia mein tabahi or zillat ke lye tayyar rehna hey

  • پاکستان میں اسرائیل کے جو کتے ہیں۔ انہیں یارکھنا چاہئے کہ پاکستان
    کسی کی ذاتی جاگیر نہیں ہے کہ ایک بندہ فیصلہ کرے تو عوام کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔
    کامران ہڈی کو پھینک کر بھونکنا چھوڑ دو۔

  • Being Muslims we always look towards what Allah and HIS Prophet SAW have told us to do. If it appears to give us some immediate benefits we must realize ultimately it will cost us dearly. no matter who becomes friends with israel we can never get anything good from them. they are sworn enemies of Pakistan and who ever does not believe that needs to wake up from his slumber


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >