متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے درمیان امن معاہدہ ،فلسطین اور ایران نے مسترد کر دیا

اسرائیل  اور متحدہ عرب کے درمیان امن معاہدہ فلسطینی عوام کی پیٹھ میں غدارانہ وار کے مترادف ہے،فلسطین اور  ایران نے معاہدے کی شدید الفاظ میں مذمت کردی، دیگر مسلم ممالک بھی بھڑک اٹھے، متحدہ عرب امارات  کے اقدام کو خطرناک اور شرم ناک قرار دے دیا۔

ایران اور فلسطینی قیادت نے معاہدے مسترد کرتے ہوئے کہا کہ معاہدہ  فلسطینیوں کی نمائندگی نہیں بلکہ ان کے حقوق کو نظرانداز کرتا ہے،فلسطینی صدر محمود عباس کا کہنا تھا کہ اسرائیل صرف اپنا مقاصد پورے کرنا چاہتا ہے۔ معاہدہ مستقبل میں فلسطینیوں کے لیے مزید مسائل پیدا کرے گا،فلسطین نےامن معاہدے پر ہنگامی اجلاس طلب کر لیا،اجلاس  میں موجودہ صورتحال پرغور کیا جائے گا۔

حماس نے کہا کہ معاہدہ فلسطینی عوام کی پیٹھ میں غدارانہ وار کے مترادف ہے، متحدہ عرب امارات اپنے مقصد کے لئے  قومی، مذہبی اور انسانیت سوز ذمہ داریوں کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔

فلسطینی لبریشن آرگنائزیشن کے ممبر حنان ایشوری کا کہنا ہے کہ متحدہ عرب امارات اسرائیل کے ساتھ اپنے خفیہ معاملات پر کھل کر سامنے آیا ہے،فلسطین کی اسلامک جہاد موومنٹ نے بھی اس معاہدے کو ہتھیار ڈالنے کے مترادف قرار دیا ہے۔

ایران نےمعاہدے کو شرمناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ ابوظہبی کا یہ اقدام خطرناک ہے،متحدہ عرب امارات اوردیگر ریاستوں کی اس حمایت  کے نتائج کےذمہ دار وہ خود ہوں گے۔

رائٹرز کے مطابق یہ معاہدہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے تعاون سے ہوا، معاہدے کے مطابق اسرائیل نے مغربی کنارے کے علاقوں پر خودمختاری کا اطلاق معطل کرنے پر اتفاق کیا ہے۔

امن معاہدے کے بعد مشترکہ اعلامیہ میں بتایا گیا کہ یو اے ای اور اسرائیل کے درمیان وفود کی سطح پر مذاکرات جلد ہوں گے، معاہدے سے مشرق وسطی میں امن کو فروغ ملے گا،صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹوئٹر پر لکھا کہ یو اے ای اور اسرائیل کے درمیان امن معاہدہ  اہم ترین پیشرفت ہے۔


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >