ڈونلڈ ٹرمپ باتھ روم میں محدود مقدار میں پانی کی فراہمی کے قانون سے تنگ آ گئے

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مسائل ہمیشہ ہی عجیب و غریب ہوتے ہیں، اب ان کے نئے مسئلے نے امریکہ میں ایک نیا تنازعہ کھڑا کردیا ہے، ڈونلڈ ٹرمپ باتھ روم اور بیت الخلا میں پانی کی محدود مقدار اور کم پریشر سے تنگ آگئے ہیں ۔

1992 میں کانگریس کی سفارشات پر امریکہ میں قانون نافذ کیا گیا تھا جس کے تحت امریکہ کے غسل خانوں میں پانی کی مقدار اور پریشر مخصوص سطح تک رکھی جائے گی، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ پانی کی کم مقدار اور پریشر کی وجہ سے میرے سر کے بال ٹھیک طرح سے نہیں دھلتے، باتھ روم جانے والے افراد پانی کا انتظار کرتے ہیں اور اس میں وقت کا ضیاع ہوتا ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ کی متعدد شکایتوں کے بعد وزارت توانائی نے اس قانون میں ترامیم سے متعلق تجاویز تیار کی ہیں تاہم امریکہ میں توانائی کی بچت کیلئے قائم تنظیموں نے ان تجاویز کی مخالفت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہوسکتا ہے ڈونلڈ ٹرمپ کے باتھ روم میں استعمال ہونے والے شاور اور نل معیاری نہ ہوں یا ان میں کوئی خرابی ہو ،پانی کی مقدار یا پریشر کو بڑھانے سے توانائی اور پیسے کا ضیاع ہوگا۔

بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق ان قوانین میں ممکنہ ترامیم کی وجہ سے توانائی کے حقوق کیلئے کام کرنے والی تنظیموں کا ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف قانونی چارہ جوئی کا بھی امکان ہے۔

ان قوانین میں ترمیم ابھی تک فائنل نہیں ہوئی ہے، کہا جارہا ہے کہ ان ترامیم پر عمل درآمد میں چند ماہ لگ سکتے ہیں، اسی دوران امریکہ میں نئے صدارتی انتخابات کا موسم بھی آجائے گا اسی لیے یہ معاملہ اگلے دور حکومت میں منتقل ہوجائے گا۔


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >