جنیوا: امریکہ نے داعش کے جنگجوؤں کے خلاف قانونی کارروائی کی قرارداد ویٹو کر دی

امریکا نے جنیوا میں جاری سلامتی کونسل کے اجلاس میں دیگر ارکان کی منظوری کے باوجود داعش کے جنگجوؤں کے خلاف قانونی چارہ جوئی کی قرارداد کو ویٹو کر دیا۔

غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق جنیوا میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس میں دہشت گردی میں ملوث قید داعش جنگجوؤں کے خلاف قانونی چارہ جوئی، ملزمان کی کونسلنگ اور از سر نو آباد کرنے سے متعلق ایک قرارداد  پیش کی گئی، قرارداد کی تمام ارکان نے منظوری دے دی، لیکن امریکا نے قرارداد ویٹو کر دی۔

امریکہ نے داعش کے جنگجوؤں کے خلاف پیش کی گئی قرارداد کو ویٹو کرتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ اس قرارداد میں داعش کے غیر ملکی شہریوں کی ان کے اپنے وطن حوالگی کے حوالے سے ابہام ہے جسے دور کیا جانا ضروری ہے، اس کے علاوہ برطانیہ اور فرانس سمیت دیگر ممالک کی رائے کے مطابق داعش کے جن غیر ملکی شہریوں کو جہاں سے گرفتار کیا جائے گا ان کے خلاف اسی ملک میں مقدمات چلائے جائیں۔

کرونا وبا کی وجہ سے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں داعش کے جنگجوؤں کے خلاف قانونی چارہ جوئی کی قرارداد پر ووٹنگ ای میل کے ذریعے کروائی گئی، ووٹنگ میں 14 سے 15 ارکان نے قرارداد کی حمایت میں ووٹ دیا جبکہ اکیلے امریکہ نے اپنا خصوصی اختیارات استعمال کرتے ہوئے قرارداد کو ویٹو کر دیا۔

خیال رہے کہ شام اور عراق میں داعش کے کئی ایسے جنگجو زیرحراست ہیں، جن کا تعلق برطانیہ، فرانس اور امریکا سمیت دیگر عالمی طاقتور ممالک سے ہے، ان تمام ممالک نے اپنے شہریوں کو واپس لینے سے انکار کرتے ہوئے ان پر عراق اور شام میں ہی مقدمات چلانے کا مطالبہ کیا ہے۔


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >