فرانس میں یومیہ کورونا متاثرین کی تعداد 10 ہزار سے بڑھ گئی

فرانس میں یومیہ کورونا متاثرین کی تعداد 10 ہزار سے بڑھ گئی

یورپ سمیت دنیا کے متعدد ممالک میں کورونا کے وار جاری ہیں۔ دنیا بھر میں کورونا وائرس کی دوسری لہر کا سامنا ہے جبکہ چند ممالک میں ابھی پہلی لہر کے باعث ہی متاثرین اور ہلاکتوں میں مسلسل اضافہ دیکھنے میں آرہاہے۔

فرانس میں جہاں کورونا کی تازہ لہر پر قابو پانے کی کوشش کی جاری ہے، وہیں نئے کیسز میں ریکارڈ یومیہ اضافہ سامنے آگیا ہے۔ ہفتے کے روزفرانسیسی صحت کے حکام کے مطابق ایک دن میں دس ہزار 561 افراد میں وائرس کی تصدیق ہوئی جبکہ جمعے کو نو ہزار سے زائد کیسز رپورٹ ہوئے۔

نئے کیسز کے ساتھ زیر علاج مریضوں اور انتہائی نگہداشت میں رکھے جانے والی مریضوں کی تعداد میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔ ڈاکٹرز نے اجتماعات سے گریز کی تلقین کردی۔

12 ستمبر کے اعداد وشمار کے مطابق 2432 نئے مریضوں کو اسپتال بھیجا گیا، جو کہ جمعے کو داخل کیے جانے والے مریضوں سے زیادہ تعداد تھی۔ 75 افراد کو انتہائی نگہداشت میں رکھا جا رہا ہے۔

کورونا وائرس سے ہفتے کے روز 17 افراد ہلاک ہوئے۔ فرانس میں اب تک 30 ہزار سے زیادہ اموات ریکارڈ کی گئی ہیں۔ اموات کی تعداد کے لحاظ سے فرانس دنیا میں ساتواں بڑا متاثرہ ملک ہے۔

فرانسیسی حکام نے ملک کے ایسے بارہ علاقوں کو انتہائی خطرناک یا "ریڈ زون” قرار دے دیا جو وائرس کی زد میں ہے۔ان علاقوں میں ماسک پہننے اور اجتماعات پر پابندی میں سختی کر دی گئی ہے۔ پیرس اور لیون کے علاوہ بحیرہ روم کے تقریباً تمام ساحلی مقامات شامل ہیں۔

فرانسیسی وزیر اعظم ژاں کاسٹیکس نے جمعہ کو متنبہ کیا تھا کہ ملک میں کورونا کی صورتحال مزید سنگین ہورہی ہے ، اور کووڈ 19 سے متاثرہ افراد کے اسپتال میں داخل ہونے میں حالیہ اضافہ خاص طور پر تشویشناک تھا۔

فرانسیسی وزیراعظم نے اپنے بیان میں کہا کہ ہمیں عام طور پر لاک ڈاؤن کے خیال پر واپس آئے بغیر ، اس وائرس کے ساتھ زندگی گزارنے میں کامیابی حاصل کرنا ہوگی۔

وزیر اعظم ژاں کاسٹیکس کے بارے میں خدشہ تھا انہیں بھی کورونا ہوگیا ہے، لیکن ان کا ٹیسٹ منفی آیا ہے۔ انہوں نے ساحلی شہروں اور جزیرہ گاڈیلوپ کے حکام کو تجویز دی ہے کہ وہ اپنے اپنے علاقوں میں ’نئے اضافی اقدامات’ کا نفاذ کریں۔

دوسری جانب سائیکلوں کی دوڑ ’ٹؤر ڈی فرانس’ کے منتظمین نے ان مقامات پر شائقین کے جمع ہونے پر پابندی لگا دی ہے جہاں سے ریس کا آغاز ہوتا ہے اور جہاں یہ ختم ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ ریس کے راستے میں ان مقامات پر بھی اجتماعات پر پابندی لگا دی گئی ہے جو ریڈ زون میں آتے ہیں۔


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >