ڈونلڈ ٹرمپ کا یوٹرن، ٹک ٹاک معاہدہ منظور کرنے کا عندیہ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر یوٹرن  لیتے ہوئے چینی موبائل ایپلی کیشن ٹک ٹاک کا امریکی کمپنیوں کے ساتھ طے ہوا معاہدہ منظور کرنے کا عندیہ دے دیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے بیان سے یو ٹرن لیتے ہوئے گزشتہ روز میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ انہیں خوشی ہوگی کہ وہ چینی ایپلی کیشنز اور امریکی کمپنیوں کے درمیان طے پانے والے معاہدے کو منظور کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ ٹک ٹاک، اوریکل اور وال مارٹ تینوں ادارے مشترکہ طور پر امریکی ریاست ٹیکساس میں ایک نیا ادارہ تشکیل دیں گے جو امریکا میں ٹک ٹاک کے معاملات دیکھے گا، تینوں اداروں کی جانب سے مشترکہ طور پر تشکیل دی گئی نئی کمپنی سے امریکا کے پچیس ہزار بیروزگاروں کو نوکریاں ملیں گی اور نیا ادارہ امریکہ میں تعلیم کے لیے پانچ ارب ڈالرز کے فنڈ بھی دے گا۔

خیال رہے کہ چند روز قبل چینی کمپنی ٹک ٹاک نے امریکی کمپنی اوریکل کے ساتھ امریکا میں کام کرنے پر رضامندی ظاہر کی تھی، جس کے مطابق وہ ایک نئی کمپنی بنائیں گے جو امریکا میں ٹک ٹاک کے انتظامات دیکھے گی، تاہم اب خبر سامنے آئی ہے کہ مذکورہ معاہدے میں وال مارٹ بھی شامل ہوگیا ہے، جو مشترکہ طور پر ایک نیا ادارہ بنائیں گے۔

ٹک ٹاک اور امریکی کمپنیوں اوریکل اور وال مارٹ کے درمیان مجوزہ طور پر طے پانے والے معاہدے کی تفصیلات کے مطابق ٹک ٹاک گلوبل کے 80 فیصد شیئرز چینی کمپنی بائیٹ ڈانس کی ملکیت ہوں گے جو ٹک ٹاک کی مالک کمپنی ہے، جبکہ اوریکل اور وال مارٹ کے پاس امریکا میں ٹک ٹاک کے شیئرز کا 20 فیصد حصہ جائے گا۔

خیال رہے کہ امریکی صدر نے تین دن قبل عندیہ دیا تھا کہ وہ ٹک ٹاک اور امریکی کمپنی اوریکل کے درمیان ہونے والے معاہدے کو مسترد کردیں گے اور دونوں کے درمیان ہونے والے معاہدے کی کسی بھی چیز پر دستخط نہیں کریں گے، وہ اس لیے کہ دونوں کے درمیان طے پانے والا معاہدہ امریکا کی قومی سلامتی کے عین مطابق نہیں۔


Featured Content⭐


24 گھنٹوں کے دوران 🔥


From Our Blogs in last 24 hours 🔥


>