نیپال کا بھارت کو جھٹکا، نیاسیاسی نقشہ اپنے نصاب میں شامل کرلیا

بھارت کو ایک اور بڑا دھچکا، ہمسایہ ملک نیپال نے نیا سیاسی نقشہ اپنے نصاب میں شامل کر لیا۔

جمہوریت کی سب سے بڑی دعویدار ریاست بھارت کو اپنے ہمسایہ ملک نیپال سے ایک بار پھر شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا ہے، نیپال نے نگر ہوکر بھارتی دباؤ کو کسی خاطر میں نہ لاتے ہوئے اپنے نظر ثانی شدہ سیاسی نقشے کو اپنے اسکولوں کے نصاب میں باضابطہ طور پر شامل کرلیا ہے۔

نیپال کی جانب سے جو سیاسی نقشہ اسکولوں کے نصاب میں شامل کیا گیا ہے اس میں وہ علاقے بھی شامل ہے جس پر اب تک بھارت یہ دعوی کرتا ہوا آیا ہے کہ یہ علاقے اس کے ہیں نہ کہ نیپال کے، لیکن نیپالی نے نئے سیاسی نقشے میں ان علاقوں کو اپنے ملک کا حصہ دکھایا ہے، جس کا بھارت ہمیشہ دعویٰ کرتا آیا ہے۔

رواں سال آٹھ مئی کو اترا کھنڈ کے قریب بھارتی وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے اسٹریٹجک لحاظ سے انتہائی اہم 80 کلومیٹر طویل سڑک کا افتتاح کیا تھا، جس کی وجہ سے بھارت اور نیپال کے تعلقات خراب ہوئے تھے۔

خیال رہے کہ نیپال کی پارلیمنٹ نے رواں سال 13 جون کو متفقہ طور پر ملک کا نیا سیاسی نقشہ منظور کیا تھا، جس میں وہ تین اہم مقامات بھی شامل ہیں، جس پر بھارت ہمیشہ اپنی ملکیت ظاہر کرتا رہا ہے۔

دوسری جانب نیپال کے اس اقدام پر بھارتی میڈیا کی چیخیں نکل گئیں اور بھارت نے پروپیگنڈا کرکے اپنی عوام کو مطمئن کرنا شروع کردیا ، کبھی بھارتی میڈیا یہ پروپیگنڈا کررہا ہے کہ اس اقدام پر نیپالی حکومت اور قائدین میں اختلافات پھوٹ پڑے ہیں تو کبھی کوئی دعویٰ۔

اطلاعات نے بھارت نے نیپال کو سبق سکھانے کیلئے نیپال کیلئے پیاز کی ایکسپورٹ پر پابندی لگادی ہے۔


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >