آذر بائیجان اور آرمینیا کےدرمیان متنازعہ سرحدی علاقے میں شدید لڑائی

ارمینیا اور آذر بائیجان کی افواج کے درمیان نگورنو-کاراباخ میں مسلم علاقوں پر علیحدگی پسند مسیحوں کے قبضے کے بعد  شدید جھڑپوں کا اآغاز ہوگیا ہے ۔

بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق ارمینیا کے وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ ارمینیا کی فوج نے آذر بائجان کے 2 ہیلی کاپٹرز اور 3 ڈرونزکو تباہ کردیا ہے۔

ترجمان وزارت دفاع  کا کہنا ہے کہ آرمینیا کی فورسز نے آذر بائجان کے تین ٹینکوں کو بھی نشانہ بنایا ہے، تاہم ابھی تک کسی قسم کی ہلاکت کی اطلاع نہیں ملی ہے۔

ناگورنو- کاراباخ ایک متنازعہ علاقے کی حیثیت رکھتا ہے جو 1994 کی جنگ کے بعد آذر بائیجان کے کنٹرول سے باہر نکل گیا تھا، علاقے میں دونوں ملکوں کی جانب سے کثیر تعداد میں فوج کو تعینا ت کیا گیا ہے۔

متنازع علاقے کے صدر کا آرائیک ہارتیو نیان کا کہنا ہے صورتحال کو دیکھتے ہوئے ملک میں مارشل لاء نافذ کردیا گیا ہے۔

دوسری جانب آذر بائجان کی وزارت دفاع نے آرمینیا کے دعوے کو مسترد کیا ہے مگر صدر الحام الیو نے اپنے ایک خطاب کے دوران کہا کہ آرمینیا کی بمباری کے نتیجے میں فوج اور عام شہریوں کو نقصان پہنچا ہے۔

تنازعہ مسلم علاقے میں مسیحی علیحدگی پسندوں کے قبضے سے شروع ہوا جس کے بعد یہاں دونوں ملکوں کے درمیان جھڑپوں کا آغاز ہوا، تاہم دونوں ملک ایک دوسرے پر جنگ شروع کرنے کا الزام لگارہے ہیں۔

ناگورنو- کاراباغ کا یہ پہاڑی علاقہ 4 ہزار 400 مربع کلومیٹر پر محیط ہے، جس کی 50 کلومیٹر کی سرحد آرمینیا کی ریاست سے لگتی ہے، علاقے کی اپنی فوج نے جسے آرمینیا کی حکومت کی حمایت حاصل ہے، علاقے سے باہر آذربائیجان کے کچھ علاقے پر قبضہ بھی کررکھا ہے۔


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >