بھوک اور افلاس کے باعث یمن میں انسانی بحران سنگین صورتحال اختیار کرنے لگا

یمن میں جنگ کی بنیادی وجہ عرب سپرنگ کی بغاوت کے بعد یمن میں استحکام لانے والی سیاسی منتقلی کی ناکامی میں پنہاں ہے۔ عرب خطے میں اٹھنے والی اس تحریک نے ایک عرصے سے یمن میں حکومت کرنے والے جابر حکمران علی عبد اللہ صالح کو 2011 میں اپنے نائب منصور ہادی کو اقتدار سونپنے پر مجبور کیا۔

منصور ہادی کو بحیثیت صدر متعدد قسم کے مسائل کا سامنا کرنا پڑا جن میں جہادیوں کے حملے، جنوب میں علیحدگی پسندی کی تحریک، سکیورٹی اہلکاروں کی عبد اللہ صالح کے ساتھ مسلسل وفاداری کے علاوہ بدعنوانی، بیروزگاری اور غذائی اشیا کا عدم تحفظ شامل تھا۔

یمن گزشتہ6 سال سے سول خانہ جنگی کا شکار ہے اور پھر سعودی عسکری اتحاد بھی یہاں اپنا خوب زور دکھاتا ہے اس کا مقصد حوثی باغیوں سے لڑائی کرنا ہے مگر ان حملوں میں یمنی لوگ زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔ اب یمن کی اہم ترین عمارتیں تباہ یا خستہ حال ہو چکی ہیں اور 30 فیصد ملکی انفرااسٹرکچر تباہ ہے۔

یمن کی زیدی شیعہ اقلیت کی حوثی تحریک جو گذشتہ ایک دہائی کے دوران منصور ہادی کی حکومت کے خلاف کئی بار بغاوت کر چکی تھی، اس نے نئے صدر کی کمزوری کا فائدہ اٹھاتے ہوئے شمالی صوبہ صعدہ اور اس کے آس پاس کے علاقوں پر قبضہ کر لیا۔

جہاں پہلے سے ہی بھوک اور افلاس کے ڈیرے تھے لوگ غذائی قلت کی وجہ سے کسمپرسی کا شکار تھے وہیں اب کورونا وائرس نے صورتحال کو مزید سخت کر دیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ جہاں دنیا میں کورونا وائرس سے ہلاکت کی شرح 4 فیصد ہے وہیں یہ شرح یمن میں 30 فیصد ہے۔

یہ کہا جا سکتا ہے کہ یمن دنیا کے بدترین انسانیت سوز بحران کا سامنا کر رہا ہے۔ اقوام متحدہ نے مارچ 2020 تک کم از کم 7700 عام شہریوں کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے اور ان میں سے زیادہ تر اموات سعودی قیادت میں اتحادی افواج کے فضائی حملوں کے نتیجے میں ہوئی ہیں۔

یمن کے حالات پر نظر رکھنے والے مانیٹرنگ گروپس کا خیال ہے کہ ہلاکتوں کی تعداد کہیں زیادہ ہے۔ امریکہ میں قائم اے سی ایل ای ڈی نے اکتوبر 2019 میں کہا تھا کہ اس نے براہ راست حملوں میں مارے جانے والے 12 ہزار شہریوں سمیت ایک لاکھ سے زیادہ ہلاکتیں ریکارڈ کیں۔ غذاؤں کی قلت، بیماری اور خراب صحت کی وجہ سے ہزاروں دوسرے شہریوں کی ہلاکت ہوئی جسے روکا جا سکتا تھا۔

اقوام متحدہ نے تنبیہ کی ہے کہ کورونا وائرس سے ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد پچھلے پانچ برسوں میں جنگ، بیماری اور بھوک کی مشترکہ تعداد سے تجاوز کر سکتی ہے کیونکہ پہلے سے ہی اس جنگ نے تقریباً ساڑے 36 لاکھ لوگوں کو بے گھر کر دیا ہے۔

  • خدا وندکریم اپنا عذاب نازل فرمائے ہر اس پر جو کسی بھی طریقے سے اس نسل کشی میں ملوث ہے اور ان خاموش تماشائیوں پر بھی جو مظلوم کے حق میں آواز بلند نہیں کرتے۔۔۔۔۔آمین


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >