انتہا پسند ہندوؤں کے ہاتھوں اجتماعی زیادتی کا شکار دلت لڑکی ہلاک

برصغیر کی جمہوریت کی دعویدار سب سے بڑی ریاست بھارت جہاں نا کسی بیٹی کی عزت محفوظ ہے اور نہ ہی کسی کو مذہبی آزادی حاصل ہے، بھارت میں جہاں وزیراعظم نریندرا مودی کی جانب سے بیٹی بچاؤ اور پڑھاؤ کا نعرہ لگایا جا رہا ہے وہیں دوسری طرف بی جے پی کے انتہا پسند ہندوؤں کی بڑی تعداد ریاست میں ہونے والی اجتماعی زیادتی میں ملوث پائی جاتی ہے۔

اسی تناظر میں بھارت کے دارالحکومت دلی سے 62 کلومیٹر دور ضلع ہھتراس میں 19 سالہ دلت لڑکی کو 14 ستمبر کو انتہا پسند ہندوؤں کی جانب سے زیادتی کا نشانہ بناتے ہوئے شدید تشدد کا نشانہ بھی بنایا گیا تھا، جو  زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا ہو کر زندگی کی بازی ہار گئی، ہسپتال ذرائع کے مطابق لڑکی کی زبان کٹی اور ریڑھ کی ہڈی بھی ٹوٹی ہوئی تھی۔

انیس سالہ دلت لڑکی کی ہلاکت کی خبر سامنے آتے ہی بڑی تعداد میں لوگ ہسپتال کے باہر جمع ہوگئے، جنہوں نے پولیس اور حکومت کے خلاف نعرے لگاتے ہوئے ہلاک ہونے والی لڑکی کے لواحقین کو انصاف فراہم کرنے کا مطالبہ کردیا، جبکہ ہلاک ہونے والی لڑکی کو انصاف فراہم کرنے کا مطالبہ کرنے والوں کو منتشر کرنے کے لیے پولیس نے لاٹھی چارج کر دیا، جس کے نتیجے میں متعدد افراد زخمی ہوگئے۔

مودی کے مخالف اور کانگریس کے رہنما راہول گاندھی بھی 19سالہ ہلاک ہونے والی لڑکی کو انصاف دلوانے کے لیے میدان میں آگئے اور کہا کہ اس ظلم کے ذمہ داروں کو ہر قیمت پر بے نقاب کروں گا اور کسی کو بھی اس معاملے پر حقائق چھپانے نہیں دوں گا۔

دوسری جانب کانگریس کے رہنما راہول گاندھی جو کہ جنسی زیادتی کا نشانہ بننے والی دلت لڑکی کی موت کے بعد ان کے اہل خانہ سے اظہار افسوس کے لیے ہاتھرس جا رہے تھے، جنھیں بھارتی ریاست اتر پردیش کی پولیس نے یمنا ایکسپریس وے پر اپنی حراست میں لے لیا۔

پولیس کی جانب سے حراست میں لیے جانے کے بعد راہول گاندھی کا کہنا تھا کہ پولیس نے مجھے دھکے مارے اور لاٹھی چارج کیا، پولیس کے رویے پر کانگریس رہنما غصے میں آگئے اور میڈیا کے سامنے پولیس کے سامنے کئی سوالات کرتے ہوئے پوچھا کہ انہیں کس قانون کی بنا پر حراست میں لیا جا رہا ہے؟

پولیس کے ساتھ نوک جھونک کے دوران راہول گاندھی نے پولیس کو متاثرہ خاندان کے پاس اکیلے جانے کی درخواست کی جس کو پولیس نے نہ مانتے ہوئے انہیں آگے جانے نہ دیا، جس پر راہول گاندھی نے کہا کہ دفعہ 144 اکیلے آدمی پر نافذ نہیں ہوتی، لہذا مجھے اکیلے جانے دیا جائے۔

کانگریس رہنما راہول گاندھی کا کہنا تھا کہ میں پوچھنا چاہتا ہوں کہ کیا اس ملک میں پیدل چلنے کا حق صرف مودی کو ہے؟ ہمارے جیسے عام شہری پیدل کیوں نہیں چل سکتے؟ ہماری گاڑیاں روک لی گئی ہیں ،جس کی وجہ سے ہمیں پیدل چلنا پڑ رہا ہے۔

افسوسناک واقع پر بھارتی فنکاروں سمیت کرکٹرز نے بھی انتہا پسند ہندوؤں کے ہاتھوں اجتماعی زیادتی کے بعد تشدد کے باعث ہلاک ہونے والی دلت لڑکی کے لیے انصاف کا مطالبہ کرتے ہوئے ملزموں کو جلد سے جلد گرفتار کرنے کا مطالبہ کیا ہے، قبل ازیں اترپردیش کی سابق وزیراعلیٰ اور دلت رہنما مایا وتی نے بھی مجرموں کو جلد از جلد گرفتار کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے احتجاج کی دھمکی دی ہے۔

  • This is the teachings of hindusim. As per Hindu religion the upper caste Hindus are allowed to rape lower caste women and lower class families should feel proud of it.
    The upper caste are also allowed to kill the lower caste and there will be no punishment for upper caste hindus.


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >