جاپان میں 9 افراد کے قتل میں ملوث ٹوئٹر قاتل نے جرم قبول کرلیا

جاپان کے ٹوئٹر  قاتل  نےعدالت میں 9 افراد کے قتل کا اعتراف جرم کرلیا ہے،اے ایف پی کے مطابق مقامی میڈیا کے مطابق پولیس نے ملزم شیرایشی کے گھر سے قتل کیے جانے والے متعدد افراد کے اعضا سرد خانے سے برآمد کیے ہیں،شیرایشی پر ریپ کے الزامات بھی ہیں جبکہ شیراشی پرالزام ہے کہ انہوں نے ٹوئٹر کے ذریعے 15 سے 26 سال کی عمر کے لوگوں سے رابطہ کیا جو اپنی زندگی کا خاتمہ چاہتے تھے۔

شیرایشی نے ٹوئٹر پر ان افراد کو تعاون کی پیشکش کی کہ وہ خودکشی کے منصوبے کی تکمیل میں مدد کرسکتا ہے اور ضرورت پڑنے پر ساتھ مر بھی سکتا ہے،اگر شیرایشی پر قتل کا جرم ثابت ہوجاتا ہے تو جاپان کے قانون کے مطابق انہیں پھانسی دی جائے گی،ٹوئٹر قاتل کو پولیس نے ایک 23 سالہ خاتون کی گمشدگی کی تحقیقات کرتے ہوئے 3 سال قبل حراست میں لیا تھا۔

خاتون نے مبینہ طور پر ٹوئٹ میں کہا تھا کہ وہ خود کو قتل کرنا چاہتی ہیں،خاتون کے لاپتہ ہونے کے بعد اس کے بھائی نے بہن کے ٹوئٹر اکاؤنٹ تک رسائی حاصل کی۔

2017 میں پولیس نے شیرایشی کے گھر کے اندر ایک خوفناک کمرہ دریافت کیا جہاں وہ ان لوگوں کو بلا کر قتل کرتا تھا جو خود اپنی زندگی سے بیزار تھے اور اپنی زندگی کا خاتمہ کرنا چاہتے تھے،لیکن ملزم کے وکیل نے کہا کہ میرے مؤکل کے خلاف لگائے جانے والے الزامات کو رضامندی کے ساتھ قتل سمجھا جائے جس میں 6 ماہ سے 7 سال کے درمیان قید کی سزا سنائی جاتی ہے۔

جاپان میں 9 افراد کے قتل میں ملوث ٹوئٹر قاتل نے جرم قبول کرلیا

دوسری جانب خود شیرایشی نے کہا کہ وہ اپنے وکلا سے متفق نہیں ہیں اور استغاثہ کو بتائیں گے کہ انہوں نے رضامندی کے بغیر قتل کیا ہے،شیرایشی نے ایک تبصرے میں کہا کہ متاثرہ افراد کے سروں کے پیچھے زخم آئے،اس کا مطلب ہے کہ اس میں کوئی اتفاق رائے نہیں تھا اور میں نے ایسا کیا تاکہ وہ مزاحمت نہ کریں۔


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >