15 سالہ لڑکی کے ساتھ اجتماعی زیادتی کرنے والے ملزمان کو سزائے موت

15 سالہ لڑکی کے ساتھ اجتماعی زیادتی کرنے والے ملزمان کو سزائے موت

بنگلہ دیش کی عدالت نے 15 سالہ لڑکی کے ساتھ 8 سال قبل اجتماعی زیادتی کرنے والے 5 ملزمان کو سزائے موت سنادی ہے۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق بنگلہ دیش میں شدید عوامی دباؤ کے بعد جنسی زیادتی کے ملزمان کیلئے سزائے موت کا قانون منظور ہونے کے بعد عدالت نے15 سالہ لڑکی کے ساتھ اجتماعی طور پر زیادتی کرنے والے 5 ملزمان کو موت کی سزا سنادی ہے۔

تفصیلات کے مطابق 8 سال قبل 2012 میں 15 سالہ لڑکی کو اس کے دوست ساگر چند راشیل نے پکنک پر لے جانے کا جھانسا دیا، ندی کے کنارے لے جاکر ساگر نے لڑکی پر دباؤ ڈالا کہ وہ سب سے چھپ کر اس سے شادی کرلے، لڑکی نے انکار کردیا جس پر ساگر مشتعل ہوگیا اور اس نے اپنے 4 ساتھیوں گوپی چندرا، راجون چندرا، سنجیت چندرا اور مونی رشی کے ساتھ مل کر لڑکی کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا۔

واقعے کا مقدمہ درج کیا گیا، خصوصی عدالت میں کیس کی سماعت شروع ہوئی اور شواہد کی روشنی اور ملزمان کی جانب سے اعتراف جرم کے بعد عدالت نے پانچوں ملزمان کو سزائے موت اور1 لاکھ بنگلہ دیشی ٹکا فی کس جرمانہ عائد کردیا۔

واضح رہے کہ بنگلہ دیش کے قانون میں جنسی زیادتی کی سزا عمر قید طے تھی، مگر کچھ عرصہ پہلے ایک خاتون کے ساتھ جنسی زیادتی کے واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد ملک میں احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ شروع ہوگیا، عوام کا مطالبہ تھا کہ حکومت تین دن کے اندر اندر جنسی زیادتی کے ملزمان کیلئے عمر قید کے بجائے موت کی سزا کا قانون منظور کرے۔

پرتشدد احتجاجی مظاہروں کے شدت اختیار کرنے اور شدید عوامی دباؤ کے بعد حسینہ واجد کی حکومت نے عوامی مطالبے کو تسلیم کرتے ہوئے سزائے موت کا قانون منظور کیا جس کے بعد آج 8 سال پہلے اجتماعی زیادتی کا شکار ہونے والی لڑکی کے کیس کا فیصلہ سنایا گیا۔


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >