فرانسیسی حکومت نے جبری طور پر مسجد کو 6 ماہ کیلئے بند کردیا

توہین آمیز خاکوں سے شروع ہونے والی جھڑپوں کے خلاف کریک ڈاؤن کرتے ہوئے فرانسیسی حکومت نے ایک مسجد کو جبری طور پر 6 ماہ کیلئے بند کردیا ہے۔

بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق فرانس کے شہر پیرس کے نواحی علاقے پینٹین کی گرینڈ مسجد کو آئندہ 6 ماہ کیلئے بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے، مسجد کو سرکاری طور پر سیل کرکے اس پر ایک نوٹس چسپاں کردیا گیا ہے جس میں مسجد انتظامیہ پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ انہوں نے فیس بک پر ایسی تقاریر شیئر کیں جس میں مبینہ طور پر ٹیچر کو قتل کرنے پر اکسایا گیا ہے۔

یاد رہے کہ فرانس میں دوران لیکچر ایک استاد کی جانب سے حضرت محمد ﷺ کے گستاخانہ خاکے دکھانے پر 18 سالہ نوجوان نے اسے چھریوں کے وار کرکے قتل کردیا تھا، پولیس کی جانب سے نوجوان کو گولی مار کر ہلاک کردیا گیا تھا۔

واقعے کے بعد فرانسیسی حکومت نے ملک بھر میں مسلمانوں کے خلاف کریک ڈاؤن شروع کردیا اور پکڑ دھکڑ کے دوران ایک ایسے شخص کو بھی گرفتار کیا جس نے اس 18 سالہ نوجوان سے رابطہ کیا تھا۔

  • his Macron govt. their education system and their provocative attitude is responsible for this incident…no matter how many trick they apply to divert their people, they cant hide off the reality…Two women stabbed in France, under Eifel tower, bcz they were muslim (No main stream media reported that)….This is Secular Macron terrorism…how this sounds now…they dont know what to do??..they play this religion card just to cover their failures..


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >