بھارت میں تعصب کی انتہا،مسلمان پولیس افسر کو داڑھی رکھنے پر نوکری سے نکال دیا

بھارت میں مسلمانوں کے ساتھ ناروا سلوک برقرار ہے، اور اب داڑھی رکھنا بھی مسلمانوں کیلئے جرم بنادیا گیا، مسلمان پولیس آفیسر کو داڑھی رکھنے پر نوکری سے نکال دیا گیا، بھارتی ریاست اترپردیش میں مسلمان پولیس سب انسپکٹر انتظار علی کو داڑھی رکھنے کے جرم میں نوکری سے برطرف کردیا گیا ہے۔

اترپردیش کے ضلع باغپت کے ایس پی ابھیشک سنگھ کا کہنا ہے کہ پولیس میں داڑھی رکھنے سے پہلے اجازت درکار ہوتی ہے، انتظار علی نے بغیر اجازت کے داڑھی رکھی جس کی وجہ سے اسے نوکری سے نکالا گیا،پولیس مینوئل کے مطابق صرف سکھوں کو داڑھی رکھنے کی اجازت ہے جب کہ دیگر پولیس اہلکاروں کو چہرہ صاف ستھرا رکھنا ضروری ہے۔

مسلمان پولیس افسر نے بتایا کہ متعدد بار اجازت طلب کی لیکن کسی نے سنی نہیں اور اس نے نومبر 2019 میں بھی درخواست دی تھی جواب نہ ملنے پر داڑھی رکھی تو نوکری سے نکال دیا گیا، انتظار علی کا کہنا تھا کہ وہ پچیس سال سے یوپی پولیس میں کام کررہے ہیں اور آج تک کسی نے مجھے داڑھی رکھنے سے نہیں روکا تھا،بزرگوں نے گزشتہ سال انہیں داڑھی تراشنے کو کہا تھا لیکن انہوں نے داڑھی نہیں تراشی، شروع میں ہلکی داڑھی تھی، لیکن گزشتہ دو سالوں میں داڑھی کو بڑھایا۔


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >